ایک اہم قانونی پیش رفت میں وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین و انسداد ہراسانی نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان کو جنسی ہراسگی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، جبکہ ان کی جانب سے دائر کی گئی شکایت اور اپیل دونوں مسترد کر دی گئی ہیں۔
17 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کے مطابق ڈاکٹر شہزاد علی خان اور ریسرچ اسسٹنٹ ڈاکٹر عائشہ خان نے ایک دوسرے کے خلاف ہراسگی کی علیحدہ علیحدہ شکایات دائر کی تھیں، جنہیں یکجا کر کے مشترکہ انکوائری کی گئی۔ تحقیقاتی عمل کے دوران دستیاب شواہد، موبائل پیغامات اور انتظامی فیصلوں کا جائزہ لیا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور “کوئیڈ پرو کو” نوعیت کی ہراسانی ثابت ہو چکی ہے۔ محتسب نے قرار دیا کہ وائس چانسلر نے ایک طالبہ کو غیر معمولی پیشہ ورانہ مراعات اور تقرریاں فراہم کیں، جو قواعد و ضوابط کے برعکس تھیں۔ تحریری حکم نامے میں متعلقہ اتھارٹی کو فوری طور پر برطرفی کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی محتسب نے واضح کیا کہ جہاں استاد اور طالبہ کے درمیان اختیار اور اثر و رسوخ کا عدم توازن موجود ہو، وہاں مبینہ رضامندی کو قانونی دفاع کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ طاقت کے غیر مساوی تعلق میں رضامندی اپنی آزادانہ حیثیت کھو دیتی ہے، اس لیے اسے جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
مزید برآں، متاثرہ خاتون پر عائد مالی بے ضابطگیوں کے الزامات شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیے گئے۔ فیصلے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ کوئی بھی سرکاری عہدے دار قانون سے بالاتر نہیں اور ہراسانی کے معاملات میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔