ماہرین کے مطابق اس پرندے کی دم غیر معمولی طور پر لمبی ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں اس کی لمبائی 10 میٹر سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی دم زندگی بھر بڑھتی رہتی ہے۔
چونکہ یہ نسل انتہائی نایاب اور قیمتی سمجھی جاتی ہے، اس لیے 1952 سے اس کی برآمد اور اس کے انڈوں کی منتقلی پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اسی وجہ سے یہ پرندہ جاپان کے باہر بہت کم دیکھا جاتا ہے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق اونگاڈوری کی اصل مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نسل دیگر لمبی دم والی مرغیوں جیسے شکوکو، توتنکو اور مینوہیکی سے ارتقا کے نتیجے میں وجود میں آئی ہو سکتی ہے۔یہ پرندہ نہ صرف اپنی منفرد ساخت بلکہ ثقافتی اہمیت کے باعث بھی جاپان کی حیاتیاتی وراثت کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔