کارپوریٹ سیکٹر کے لیے تاریخی ریلیف دیا گیا، سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

کارپوریٹ سیکٹر کے لیے تاریخی ریلیف دیا گیا، سپر ٹیکس میں نمایاں کمی کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد منعقدہ اہم پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزر چکا ہے اور اب پائیدار معاشی ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

ہفتہ کے روز وفاقی وزرا کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ وفاقی بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ملکی معیشت کی سمت درست کرنے، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع اور دور رس حکمت عملی کا عکاس ہے۔

کارپوریٹ سیکٹر کے لیے تاریخی ریلیف

وزیر خزانہ نے بڑے کاروباری اداروں اور صنعتی شعبے کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 50 کروڑ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن رکھنے والی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس کی شرح کو نمایاں طور پر کم کر کے 8 فیصد تک لایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی قیادت میں حکومت کا بجٹ میں عوامی ریلیف، معاشی استحکام اور ترقی کی جانب اہم پیش رفت

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئے گی، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف، معاشی ٹیم اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان اس امر پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ سپر ٹیکس کو آئندہ چند برسوں میں مرحلہ وار مکمل طور پر ختم کیا جائے گا تاکہ نجی شعبے کا اعتماد مزید مستحکم ہو اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔

عوامی ریلیف کے لیے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے محدود مالی وسائل کے باوجود عام شہریوں، تنخواہ دار طبقے اور کم آمدن والے خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے وفاقی بجٹ میں 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی مختص کی ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کے اثرات کم کرنے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو سہارا دینے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ، ڈیجیٹل معیشت کو فروغ

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک کا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور رواں مالی سال آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

 انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی ٹی ایکسپورٹس کا حجم مزید بڑھ کر تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ 27-2026 : سگریٹ، نکوٹین کے شوقین جیبیں ڈھیلی کر لیں، ای-لیکوڈ ڈیوٹی میں بڑا اضافہ

انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، فری لانسرز کی حوصلہ افزائی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔

زرعی شعبے کے لیے ریکارڈ قرضوں کی فراہمی

محمد اورنگزیب نے زرعی شعبے کی بہتری کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ زرعی شعبے کو فراہم کیے جانے والے بینکنگ گراس قرضوں کا حجم 20 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

ان کے مطابق اس پیش رفت سے کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری بیجوں اور زرعی مداخل تک بہتر رسائی حاصل ہوگی جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی ترقی نہ صرف دیہی معیشت کو مستحکم کرے گی بلکہ ملک کے غذائی تحفظ اور برآمدی اہداف کے حصول میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

دستاویزی معیشت اور ٹیکس نظام میں اصلاحات پر زور

وفاقی وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت دستاویزی معیشت کے فروغ، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ٹیکس چوری کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات جاری رکھے گی۔

 ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نظام میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنا کر قومی آمدن میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مزید مراعات دے کر صنعتی ترقی کی راہ ہموار کی جائے گی۔

معاشی اشاریوں میں بہتری، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال

پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ کے استحکام اور مالیاتی نظم و ضبط کے باعث ملکی معیشت میں مثبت اشاریے سامنے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:بجٹ میں گھی ،کراکری، شیمپو،جوتے ،مٹھایاں،مصالحے اور36 گھریلو اشیاء کون سی مہنگی ہوئیں،تفصیلات آگئیں

انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے اور بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وفاقی بجٹ میں متعارف کرائی گئی اصلاحات، سرمایہ کاری دوست اقدامات اور ترقیاتی ترجیحات ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے نئے مواقع اور عوامی خوشحالی کی جانب لے جائیں گی۔

Related Articles