ملک میں اس وقت ایک عجیب معاشی تضاد دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں گندم کی قیمت میں کمی کے باوجود آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ شہریوں کیلئے پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عوامی حلقوں میں اس صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ بنیادی اجناس کی قیمت کم ہونے کے باوجود اس سے تیار ہونے والی اشیاء مہنگی فروخت ہو رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق موجودہ سیزن میں گندم کی سرکاری قیمت تقریباً 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، جو حساب کے مطابق تقریباً 88 روپے فی کلوگرام بنتی ہے، اس کے برعکس مارکیٹ میں نجی کمپنیوں کی جانب سے آٹا 180 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے، جو کہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
گندم کو آٹے میں تبدیل کرنے کے عمل یعنی پسائی پر فی من تقریباً 400 سے 500 روپے خرچ آتا ہے، اس لاگت کو شامل کرنے کے بعد ایک من آٹے کی مجموعی قیمت تقریباً 4 ہزار روپے بنتی ہے ، اگر اس حساب کو فی کلو کے حساب سے دیکھا جائے تو آٹے کی قیمت 98 سے 108 روپے فی کلو کے درمیان ہونی چاہیے۔
تاہم زمینی حقائق اس حساب سے بالکل مختلف ہیں، جہاں مارکیٹ میں یہی آٹا 180 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے ، اس نمایاں فرق نے شہریوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور لوگ اس اضافے کی وجوہات جاننے کے خواہاں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فرق کے پیچھے سپلائی چین، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری جیسے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جن پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔