پشاور ہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور انسپکٹر جنرل پولیس کوپاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بند کی گئی شاہراہیں فوری کھولنے کا حکم دے دیا ہے اور متعلقہ حکام کو کل تک عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
یہ حکم طارق افغان ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر فوری سماعت کے بعد جاری کیا گیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، بین الصوبائی ٹریفک متاثر ہو رہی ہے اور آئین کے تحت حاصل آزادانہ نقل و حرکت کا حق معطل ہو رہا ہے۔
عدالت نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عوامی سہولت اور بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی احتجاج یا سیاسی سرگرمی کے باعث شہریوں کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سڑکوں کی مسلسل بندش ناقابل قبول ہے اور انتظامیہ فوری عملی اقدامات کرے۔
سماعت کے موقع پر آئی جی پولیس نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آج ہی تمام مرکزی شاہراہیں کھول دی جائیں گی اور ٹریفک کی روانی بحال کر دی جائے گی۔ عدالت نے اس یقین دہانی کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ہدایت کی کہ پیش رفت سے متعلق تحریری رپورٹ کل عدالت میں جمع کرائی جائے۔
اس سے قبل پشاور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر سڑکیں بند کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا اور آئی جی پولیس کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔
درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرخ جمشید پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک سڑکیں بند کرنے والے کتنے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور صوبائی حکومت نے چوتھے روز تک کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ چوتھا روز ہے، اہم شاہراہیں بند ہیں، صوبے کے عوام مشکلات کا شکار ہیں، حکومت نے اب تک کیا کارروائی کی ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ آپ خود بتا رہے ہیں کہ سڑکیں بانی پی ٹی آئی کے علاج کے معاملے پر بند کی گئی ہیں، مگر عدالت نے تو آپ کو سیاسی نمائندہ قرار نہیں دیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈیٹا مرتب کرنے کے لیے وقت درکار ہے اور عدالت کو مہلت دی جائے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ شوق ہے تو آپ بھی جا کر ان کے ساتھ بیٹھ جائیں، مگر شہریوں کو مشکلات میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
عدالت میں دائر رٹ پٹیشن میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے موٹر وے، جی ٹی روڈ اور دیگر اہم شاہراہیں بند کی گئی ہیں جس کے باعث شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت ہر شہری کو آزادانہ نقل و حرکت کا بنیادی حق حاصل ہے، مگر موجودہ صورتحال میں یہ حق معطل ہو چکا ہے۔
درخواست مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی ثوبیہ شاہد کی جانب سے دائر کی گئی، جبکہ ایک اور پٹیشن طارق افغان ایڈووکیٹ نے بھی جمع کرائی ہے۔ فریقین میں صوبائی حکومت، آئی جی پولیس، صوبائی صدر پی ٹی آئی اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو شامل کیا گیا ہے۔
وکلا بیرسٹر حذیفہ احمد اور بیرسٹر یاسین رضا کے مطابق صوابی کے انبار انٹرچینج، اٹک پل کے قریب جی ٹی روڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے پر دھرنوں کے باعث بین الصوبائی رابطہ شدید متاثر ہوا ہے۔ مریضوں، وکلا، تاجروں اور عام شہریوں کو سفری مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر شاہراہوں کی مکمل بندش سے دیگر شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہییں۔ سماعت کے دوران چیف سیکریٹری اور آئی جی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
آئندہ سماعت میں عدالت صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی کارروائی، درج ایف آئی آرز اور سڑکوں کی بحالی سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لے گی، جبکہ شہریوں کی نظریں اس اہم مقدمے پر مرکوز ہیں۔