وفاقی حکومت مستعفی ہوکر دوبارہ الیکشن کروائے، مولانا فضل الرحمٰن نے مطالبہ کر دیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی تحریک چلانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ ہم دھاندلی کیخلاف تحریک شروع کر چکے ہیں۔ ہم نے انتخابی نتائج پر دوٹوک موقف اپنایا ہے۔ دیگر جماعتیں بھی دھاندلی کیخلاف تحریک کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت ڈیلیور نہیں کر سکتی کیونکہ موجودہ اسمبلی انتہائی کمزور ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔ جس دن پیپلزپارٹی کو پریشانی ہوئی اس دن حکومت کیلئے مسئلہ ہوجائیگا۔مولانا فضل الرحمٰن نےکا کہنا تھا کہ اگر قوم نہیں اٹھے گی تو ہم غلامی کی طرف جارہے ہیں۔کچھ لوگوں کو اہم عہدے مل گئے ہیں اور وہ انجوائے کرتے رہیں گے۔ مفاہمت اچھا لفظ ہے لیکن جب اپنے ہی ساتھ چھوڑ جائیں تواپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہئے۔
مزید پڑھیں: تحریک انصاف کا عمران خان کی رہائی کیلئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
سربراہ جے یو آئی نے عام الیکشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ الیکشن کو الیکشن کہنا ظلم ہے ، آئین اور آئینی اداروں کو بالادست ہونا چاہئے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اسٹیبلشمنٹ ماتحت بھی ہو اور حاکم بھی ہو۔مولانا فضل الرحمٰن نے کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا کسان اس وقت بہت مظلوم ہے ، اگر حکومت کے پاس وافر گندم موجود تھی تو باہر سے کیوں منگوائی گئی؟کسانوں سے ظلم کرنیوالوں کا محاسبہ کیوں نہیں کیا جارہا۔انہوں نے پھر الزام عائد کیا کہ اس بار اسمبلیاں فروخت ہوئی ہیں اور امیدواروں سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں ، مذاکرات سے انکار نہیں کریں گے ۔ مذاکرات کا ماحول بنتا ہے تو اس کوبھی سپورٹ کریں گے۔ میرے پاس تحریک انصاف کے دو وفود آئے ۔ آف دی ریکارڈ بھی تحریک انصاف والے میرے ساتھ ملتے جلتے رہتے ہیں۔