پاکستان نے گروپ اے کے 35ویں میچ میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئےنمبیا کے خلاف 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 199 رنز بنا ئے جواب میں نمیبیا کی پوری ٹیم 97 رنز بنا کر آئوٹ ہوگئی ۔
نمیبیا کے 9کھلاڑی ڈبل فگر میں داخل نہ ہوسکے ، پاکستان بائولر نے شاندار بولنگ کا مظاہر ہ کرتے ہوئے نمیبیا کو 102رنز سے شکست دے کر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے
سری لنکا میں کھیلے جا رہے ڈے اینڈ نائٹ مقابلے میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، جو درست ثابت ہوا۔ قومی ٹیم نے آخری 5 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 68 رنز اسکور کر کے اسکور کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور رن ریٹ 9.95 رہا۔
صاحبزادہ فرحان کی ناقابلِ شکست سنچری
اوپنر صاحبزادہ فرحان نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 58 گیندوں پر ناقابلِ شکست 100 رنز بنائے، جس میں 11 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ انہوں نے اننگز کو سنبھالے رکھا اور آخر تک کریز پر موجود رہے۔
صائم ایوب نے 14 رنز بنائے جبکہ کپتان سلمان آغا نے 23 گیندوں پر 38 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جس میں 3 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ خواجہ نفیع 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
آخری لمحات میں شاداب خان نے بھی برق رفتار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 22 گیندوں پر ناقابلِ شکست 36 رنز بنائے، جس میں ایک چوکا اور 3 چھکے شامل تھے، جس سے پاکستان بڑے مجموعے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
نمیبیا کی بولنگ مشکلات کا شکار
نمیبیا کی جانب سے جیک بریسل نے 4 اوورز میں 48 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ کپتان گیرہارڈ اراسمس نے ایک وکٹ لی۔ دیگر بولرز مہنگے ثابت ہوئے اور پاکستانی بیٹرز کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا۔
اس سے قبل پاکستان نے گروپ اے کے 35ویں میچ میں نمبیا کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ڈے اینڈ نائٹ مقابلہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 3 بجے شروع ہوگا اور گروپ اے کی صورتحال کے پیش نظر دونوں ٹیموں کے لیے نہایت اہم ہے، پاکستان نے ٹیم نے 2 اہم تبدیلیاں کی ہیں۔
پاکستان کی متوازن پلیئنگ الیون
پاکستان نے نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل مضبوط ٹیم میدان میں اتاری ہے۔ صاحبزادہ فرحان مڈل آرڈر میں شامل ہیں جبکہ آل راؤنڈر صائم ایوب، کپتان سلمان آغا کے ساتھ اہم کردار ادا کریں گے۔ بابر اعظم بیٹنگ لائن کو استحکام فراہم کریں گے جبکہ وکٹ کیپر بیٹرز عثمان خان اور خواجہ نافع بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
شاداب خان، محمد نواز اور فہیم اشرف پر مشتمل آل راؤنڈرز کی موجودگی ٹیم کو بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں توازن فراہم کرتی ہے، جبکہ سلمان مرزا اور عثمان طارق نے بہترین بائولنگ کی ۔ شاہین شاہ آفریدی اور ابرار احمد کو پلیئنگ ایلون میں شامل نہیں کیا گیا۔