ایران نے اپنے جنوبی علاقوں میں ممکنہ راکٹ لانچز کے پیش نظر فضائی حدود سے متعلق اہم سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹم) جاری کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں فضائی اور بحری سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ دفاعی و سفارتی حلقوں نے اس پیش رفت کو خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ نوٹم میں پائلٹس، فلائٹ آپریشنز کے عملے اور ایران کی فضائی حدود یا اس کے قریب سے گزرنے والی پروازوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مخصوص علاقوں میں پرواز کے دوران غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ نوٹم میں واضح کیا گیا ہے کہ جنوبی علاقوں میں متوقع راکٹ لانچ سرگرمیوں کے باعث فضائی حدود کے بعض حصے عارضی طور پر محدود یا خطرناک ہو سکتے ہیں، اس لیے متبادل روٹس اختیار کرنے پر بھی غور کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ دنوں میں اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔ رواں ہفتے ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کیں، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ ان مشقوں کو عالمی تجارتی اور اسٹریٹجک اہمیت کے باعث خصوصی توجہ حاصل رہی۔
علاوہ ازیں ایران نے جمعرات سے روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کا منصوبہ بھی ترتیب دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان مشترکہ مشقوں کا مقصد نہ صرف عسکری تعاون کو فروغ دینا ہے بلکہ خطے میں اپنی موجودگی اور صلاحیت کا اظہار بھی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران اور روس کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی اشتراک خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
ایران کی جانب سے نوٹم ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب امریکا پہلے ہی خلیجی پانیوں میں اپنے جنگی جہاز تعینات کر چکا ہے۔ امریکی عسکری موجودگی اور ایرانی سرگرمیوں کے باعث خلیج کے خطے میں کشیدگی کی فضا برقرار ہے، جس پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوٹم کا اجرا بظاہر ایک معمول کی حفاظتی کارروائی ہے، تاہم موجودہ حالات میں اس اقدام کو خطے میں طاقت کے توازن، عسکری پیغام رسانی اور ممکنہ اسٹریٹجک تیاریوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں ایران، روس اور امریکا کی سرگرمیاں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔