پاکستان کی معاشی ترقی، کیپیٹل مارکیٹ (سرمایہ مارکیٹ) کے فروغ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی ہے۔
یہ تقریب سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کے اعزاز میں منعقد کی گئی، جہاں انہوں نے روایتی گونگ بجا کر کاروباری دن کی ٹریڈنگ کا باقاعدہ آغاز کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے واضح کیا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مضبوط کارپوریشنز اور متحرک و فعال کیپیٹل مارکیٹیں ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی کارپوریشنز ملک میں روزگار، نئی سرمایہ کاری اور مجموعی خوش حالی کے مواقع پیدا کرتی ہیں، اسی لیے پاکستان میں سرمایہ کاروں کی موجودہ تعداد کو بڑھا کر 25 لاکھ تک پہنچانا ایس ای سی پی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ڈاکٹر کبیر سدھو نے نوجوان نسل پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو سرمایہ کاری اور دولت کی تخلیق (ویلتھ کریشن) کے بہترین مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس مقصد کے لیے نوجوان سرمایہ کاروں کی خاطر انتہائی آسان اور جدید ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے ذرائع متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ملک میں مالیاتی خواندگی (فنانشل لٹریسی) کے فروغ کے لیے بہت جلد مختصر آن لائن کورسز بھی شروع کیے جائیں گے تاکہ عام لوگ بازارِ حصص کے نظام کو سمجھ سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کی آمد (آن بورڈنگ) اور اکاؤنٹ کھلوانے کے پیچیدہ عمل کو اب مزید آسان اور شفاف بنایا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) کی موبائل ایپلیکیشن سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے پورے عمل کو مزید سہل اور محفوظ بنا دے گی۔
ڈاکٹر کبیر کے مطابق، سہولت اکاؤنٹس کے لیے کسٹمر کی شناخت کے تقاضوں (کے وائی سی) کو انتہائی آسان کر دیا گیا ہے، جبکہ بروکر ریفرل پروگرام کی بدولت ریٹیل (چھوٹے) سرمایہ کاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیپیٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کو اب براہِ راست مارکیٹ کے فروغ اور سرمایہ کاروں کی تعلیم و تربیت کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ‘گونگ بجانے کی تقریب’ (گونگ سیریمونی) ایک ایسی بین الاقوامی اور روایتی علامت ہے جو کسی انتہائی اہم شخصیت کی آمد، کسی بڑی کمپنی کی لسٹنگ، یا کسی معاشی اصلاحات کے آغاز کے موقع پر منعقد کی جاتی ہے۔
پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ملکی آبادی کا ایک بہت ہی چھوٹا حصہ (ایک فیصد سے بھی کم) اسٹاک مارکیٹ میں براہِ راست سرمایہ کاری کرتا ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح بہت زیادہ ہے۔
سال 2026 میں جب پاکستان معاشی استحکام اور ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے، ایس ای سی پی کے چیئرمین کا یہ بیانیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ماضی میں ’سہولت اکاؤنٹ‘ اور کے وائی سی (نو یور کسٹمر) کے سخت قوانین کی وجہ سے عام شہری اور دور دراز علاقوں کے لوگ اکاؤنٹ کھلوانے سے کتراتے تھے، کیونکہ ان سے بینکوں اور بروکریج ہاؤسز کی جانب سے ڈھیروں دستاویزات مانگی جاتی تھیں۔ اب ان قوانین کو نرم کر کے اور سی ڈی سی کی موبائل ایپ کے ذریعے پورے نظام کو انگلیوں کی پوروں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔