ڈی جی آئی ایس پی آر کا اقرا یونیورسٹی میں خصوصی سیشن، طلبا کو ملا ہر سوال کا مدلل جواب، نوجوانوں کے لیے فخریہ لمحہ، فیلڈ مارشل کی زبردست تعریفیں
Home - اہم خبریں - ڈی جی آئی ایس پی آر کا اقرا یونیورسٹی میں خصوصی سیشن، طلبا کو ملا ہر سوال کا مدلل جواب، نوجوانوں کے لیے فخریہ لمحہ، فیلڈ مارشل کی زبردست تعریفیں
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اقرا یونیورسٹی اسلام آباد کا خصوصی دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی کے طلبا اور بحریہ یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں سے آئے ہوئے نوجوانوں کے ساتھ ایک طویل اور انتہائی انٹرایکٹو سیشن میں شرکت کی۔
طلبا کے ساتھ اس فکری نشست میں قومی سلامتی، موجودہ ملکی صورتحال، معاشی چیلنجز اور نوجوانوں کی ذمہ داریوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سیشن کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ طلبا نے ملکی تاریخ، سیاست اور سیکیورٹی سے جڑے تیکھے اور حساس سوالات براہِ راست عسکری قیادت کے سامنے رکھے، جن کے جوابات انتہائی کھلے، مدلل اور جامع انداز میں دیے گئے۔
سیشن کے دوران ملکی معیشت کی بحالی، ڈیجیٹل دہشتگردی اور بیرون ملک سے لاحق سٹریٹجک خطرات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے طلبا کو آرمی چیف کے پاکستان کے مستقبل سے متعلق وژن سے آگاہ کیا، جس میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور مائننگ (معدنیات) کے شعبوں میں ہونے والی حالیہ پیشرفت شامل ہے۔
ملاقات کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور اپنے تحریری و زبانی تاثرات ریکارڈ کرواتے ہوئے طلبا نے اس سیشن کو ملکی حالات کے فہم کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔
ایوانِ دانش میں گونجتے طلبا کے زبردست تاثرات
سیشن کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے پہلے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت اچھا سیشن تھا، کیونکہ پاکستان کے جو موجودہ حالات چل رہے ہیں، سیکیورٹی وائز یا پولیٹیکلی، اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بہت تفصیلی بات کی ہے اور نوجوانوں کو جو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ امید کی ہے اور انہوں نے آ کر نوجوانوں کو ایک ڈائریکشن دی ہے اور ان کو امید دلائی ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے‘۔
بحریہ یونیورسٹی کے طالب علم دانیال احمد نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا نام دانیال احمد ہے اور میں بحریہ یونیورسٹی کا طالب علم ہوں۔ آج یہاں پر جو ڈی جی آئی ایس پی آر کا انٹرایکٹو سیشن ہوا ہے، وہ بہت ہی معلوماتی تھا اور اس سے ہمیں کافی کچھ سیکھنے کو ملا‘۔
ایک اور تیسرے طالب علم نے سیشن کی وسعت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’سیشن بہت اچھا رہا۔ اس میں جو ہمارے ملک کے موجودہ حالات ہیں، جیسے کہ معیشت، ڈیجیٹل دہشت گردی اور جو دوسرے بیرونی خطرات ہیں، ان سب پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے تمام سوالات کے بہت ہی تسلی بخش جوابات دیے‘۔
ایک اور طالب علم نے عسکری قیادت کے کھلے پن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سیشن ایک بہت ہی منفرد اور زبردست تجربہ تھا۔ اس سیشن کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس میں یوتھ کو یعنی ہم طالب علموں کو براہِ راست ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ہر سوال کا جواب بہت تفصیل سے دیا ‘۔
پروپیگنڈا کے توڑ کے حوالے سے پانچویں طالب علم نے بتایا کہ ’اس سیشن سے جو سب سے بڑا میسج ہمیں ملا ہے، وہ یہ ہے کہ ملک میں مایوسی پھیلانے والے عناصر کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والے منفی پروپیگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے ہمیں اپنے ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے‘۔
ملکی معیشت اور مستقبل پر بات کرتے ہوئے چھٹے طالب علم کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے جو وژن ہے اس نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ انہوں نے زراعت، آئی ٹی اور مائننگ کے شعبوں میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں بتایا۔ اس سیشن کے بعد ہمارا اپنی افواج اور اپنے ملک پر اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے اور ہم اب زیادہ پرامید ہیں ‘۔
ففتھ جنریشن وارفیر اور تعلیمی اداروں میں رسائی
موجودہ دور میں روایتی جنگوں کے طریقے بدل چکے ہیں، اور پاکستان کو اس وقت ’ففتھ جنریشن وارفیر‘ یعنی پروپیگنڈا اور ڈیجیٹل جنگ کا سامنا ہے۔
ڈیجیٹل دہشت گردی کا چیلنج
عسکری قیادت حالیہ مہینوں میں ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کی اصطلاح کثرت سے استعمال کر رہی ہے۔ اس کا مقصد سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں میں ریاستی اداروں، بالخصوص پاک فوج کے خلاف نفرت اور مایوسی پیدا کرنے کی بیرونی و اندرونی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔
یوتھ اینگیجمنٹ پالیسی
پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پاک فوج نے اپنی نئی اسٹریٹجک پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں کے طلبا کے ساتھ براہِ راست رابطوں کا آغاز کیا ہے، تاکہ افواہوں اور ہیبرڈ وار کا مقابلہ حقائق اور کھلی گفتگو کے ذریعے کیا جا سکے۔
ابلاغی خلا کو پُر کرنے کی عسکری کوشش
ڈی جی آئی ایس پی آر کا یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ یہ انٹرایکٹو سیشن محض ایک روایتی دورہ نہیں، بلکہ اس کے گہرے اسٹرٹیجک مقاصد ہیں جو طلباء کے تاثرات سے بھی واضح ہوتے ہیں۔
مایوسی کا خاتمہ اور امید کی فراہمی
طلبا کے تاثرات کے مطابق ملک میں جاری سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے نوجوان طبقے میں برین ڈرین اور مایوسی عروج پر تھی۔ عسکری قیادت کا زراعت، آئی ٹی اور مائننگ کے منصوبوں کا حوالہ دینا نوجوانوں کو ملک کے اندر ہی روزگار اور روشن مستقبل کی امید دلانے کی کامیاب کوشش ثابت ہوا ہے۔
سوشل میڈیا نیریٹو کا مقابلہ
طالب علم کا یہ کہنا کہ انہیں ’منفی پروپیگنڈے‘ سے بچنے اور مثبت کردار ادا کرنے کی تلقین کی گئی، یہ ثابت کرتا ہے کہ پاک فوج سوشل میڈیا کو قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا فرنٹ مانتی ہے۔ طلبا کو براہِ راست سوالات کی اجازت دے کر عسکری قیادت نے اس ابلاغی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے، جسے پروپیگنڈا کرنے والے عناصر استعمال کرتے ہیں۔
اعتماد کی بحالی کا چیلنج
طلبا کا یہ اعتراف کہ اس سیشن کے بعد ’افواج پر اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے‘ ظاہر کرتا ہے کہ آئی ایس پی آر کا براہِ راست پڑھے لکھے نوجوان طبقے میں جا کر مکالمہ کرنے کا تجربہ قومی بیانیے کو یکجا کرنے میں مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔