پاکستانی طلبہ کے امریکا میں مفت تعلیم حاصل کرنے کیلئے یو ایس ای ایف پی نے سال 2027 کے لیے فل برائٹ طلبہ پروگرام کی درخواستیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں۔ پاکستانی طلبہ یکم اپریل 2026 تک اپنی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔
یہ ایک مکمل مالی معاونت پر مبنی وظیفہ ہے، جس کے تحت منتخب طلبہ کو امریکہ کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس وظیفے میں جامعہ کی فیس، رہائش اور روزمرہ اخراجات، طبی سہولت کا بیمہ اور آنے جانے کا فضائی کرایہ شامل ہوتا ہے۔ یعنی طالب علم کی تعلیم کے تمام بڑے اخراجات پروگرام برداشت کرتا ہے۔
یہ پروگرام امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے۔ امیدواروں کے انتخاب میں تعلیمی کارکردگی، امتحانی نتائج، قائدانہ صلاحیت اور پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے عزم کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
یہ وظیفہ تقریباً تمام تعلیمی شعبوں کے لیے دستیاب ہے، خاص طور پر سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تجارت، معاشیات اور قدرتی وسائل کے انتظام کے شعبوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ البتہ عملی طب یعنی مریضوں کے براہِ راست علاج سے متعلق تعلیم اس پروگرام میں شامل نہیں، جبکہ صحتِ عامہ جیسے شعبوں میں درخواست دی جا سکتی ہے جہاں عملی علاج شامل نہ ہو۔
ماسٹرز کے لیے امیدوار کے پاس چار سالہ بیچلر ڈگری یا سولہ سالہ مکمل تعلیم ہونا ضروری ہے۔ حالیہ فارغ التحصیل طلبہ بھی درخواست دے سکتے ہیں، تاہم کاروباری انتظام اور عوامی پالیسی و انتظامیہ کے شعبوں میں داخلے کے لیے کم از کم دو سالہ متعلقہ عملی تجربہ لازمی ہے۔
پی ایچ ڈی کے لیے امیدوار کے پاس کم از کم اٹھارہ سالہ تعلیم یعنی ماسٹرز، ایم فل یا اس کے مساوی ڈگری ہونا ضروری ہے۔ ایسے امیدواروں کو ترجیح دی جاتی ہے جن کے پاس تدریس، تحقیق یا سرکاری اداروں میں کام کرنے کا تجربہ ہو۔
تمام امیدواروں کے لیے گریجویٹ ریکارڈ امتحان دینا لازمی ہے اور ہر حصے میں کم از کم 145 نمبر حاصل کرنا ضروری ہیں۔ منتخب امیدواروں کو انگریزی زبان کا بین الاقوامی امتحان بھی دینا ہوگا تاکہ ان کی زبان پر عبور کو جانچا جا سکے۔
کامیاب امیدواروں کو یو ایس ای ایف پی کے ساتھ معاہدہ کرنا ہوگا، جبکہ پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کو ایجوکیشن کمیشن) کے ساتھ بھی ایک تحریری ضمانت دینا ہوگی، جس کے مطابق تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد پاکستان واپس آ کر کم از کم دو سال یا وظیفے کے برابر مدت تک ملک کی خدمت کرنا لازم ہوگا۔
ماہرین تعلیم کے مطابق یہ دنیا کے نمایاں تعلیمی تبادلہ پروگراموں میں شمار ہوتا ہے اور اب تک ہزاروں پاکستانی طلبہ اس سے فائدہ اٹھا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور ملک کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔