خیبر پختونخوا میں انصاف اور شفافیت کے دعوؤں کے درمیان پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ہی ضلعی سینیئر نائب صدر کو عہدے سے برطرف کر دیا۔ معاملہ رمضان پیکیج کی تقسیم پر اختلافات سے شروع ہوا اور بالآخر تنظیمی کارروائی تک جا پہنچا جس سے پارٹی کے اندر رائے عامہ کو دبانے کی کارروائی کھل کر سامنے آگئی۔
پی ٹی آئی ضلع پشاور کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ضلعی نائب صدر شیر احمد کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ضلعی صدر عرفان سلیم کی جانب سے کیا گیا اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز شیر احمد نے رکن قومی اسمبلی آصف خان کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا تھا۔ احتجاج میں ان کا مؤقف تھا کہ رمضان پیکیج کی تقسیم منصفانہ اور یکساں انداز میں نہیں ہو رہی اور مستحق کارکنان و شہریوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امدادی سامان اور مالی معاونت کی تقسیم شفاف طریقے سے کی جائے اور اس کی باقاعدہ فہرستیں جاری کی جائیں۔
عینی شاہدین کے مطابق احتجاج کے دوران شیر احمد نے نعرے بازی بھی کی اور مقامی قیادت سے وضاحت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ پارٹی قیادت نے اس اقدام کو تنظیمی نظم و ضبط کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی عمل میں لائی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ کسی بھی رہنما کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پارٹی فورم کے بجائے عوامی سطح پر احتجاج کرے۔
شیر احمد کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے انصاف اور شفافیت کے مطالبے پر آواز اٹھائی تھی اور ان کا مقصد پارٹی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اصلاح کی جانب توجہ دلانا تھا۔ ان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ اگر اندرونی فورمز پر بات سنی جاتی تو احتجاج کی نوبت نہ آتی۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب رمضان پیکیجز کی تقسیم سیاسی طور پر حساس معاملہ بن چکی ہے۔ اگر شفافیت کے دعوؤں کے باوجود اختلاف رائے کو برداشت نہ کیا جائے تو اس سے تنظیمی سطح پر مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے جہاں کارکنان اور عوام کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ حلقے اسے احتساب کا عمل قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے اختلاف رائے دبانے کی کوشش سمجھ رہے ہیں۔