اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے جھٹکے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سمیت بالائی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔
محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی زمین کے اندر 146 کلومیٹر تھی۔ ماہرین کے مطابق گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے جھٹکے وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے تاہم سطح زمین پر اس کی شدت نسبتاً کم رہی ہے۔
زلزلے کا مرکز افغانستان میں کوہ ہندوکش کی پہاڑیاں قرار دیا گیا ہے، جہاں سے آنے والی زیر زمین لہروں نے پاکستان کے شمالی اور وسطی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لیا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ سوات، مردان، بٹگرام، پشاور، چترال، باجوڑ، صوابی، لنڈی کوتل، چارسدہ، دیامر، خیبر جمرود، اٹک اور چکوال میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے۔ بعض علاقوں میں جھٹکوں کا دورانیہ کئی سیکنڈ تک جاری رہا جس کے باعث لوگ شدید خوفزدہ ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی نقصان کی خبر موصول نہیں ہوئی ۔ واضح رہے کہ کوہ ہندوکش کا خطہ زلزلہ خیز پٹی میں واقع ہے جہاں گہرے زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے زلزلے عام طور پر وسیع رقبے میں محسوس ہوتے ہیں کیونکہ ان کی گہرائی زیادہ ہوتی ہے، تاہم نقصانات کا انحصار شدت اور سطح زمین کی ساخت پر ہوتا ہے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں، عمارتوں کی مضبوطی کا جائزہ لیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔ سوشل میڈیا پر زلزلے کے جھٹکوں سے متعلق ویڈیوز اور پیغامات تیزی سے گردش کر رہے ہیں۔