انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا اب دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھ رہی ہے اور جنگی استعمال کے لیے جدید گیئر تیار کیا جا رہا ہے۔
2025 میں میٹا نے دفاعی اسٹارٹ اپ اینڈوریل کے ساتھ شراکت داری کی، جس کے بانی پالمر لکی ہیں۔ یہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اوکیولس بنایا تھا، جو بعد میں میٹا نے خرید لیا تھا، مگر کچھ عرصے بعد وہ کمپنی سے الگ ہوگئے تھے۔ اب دونوں ایک بار پھر مل کر امریکی فوج کے لیے اگمینٹڈ رئیلٹی سسٹمز تیار کر رہے ہیں۔
اس منصوبے کا نام ایگل آئی رکھا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا ہیلمٹ ہے جو فوجی اہلکار کے سامنے براہ راست ایک مصنوعی ذہانت اسسٹنٹ دکھاتا ہے۔ اس میں نقشے، ٹیم میٹس کی لوکیشن، ڈرونز کی لائیو فیڈ اور AI کی طرف سے شناخت کیے گئے اہداف حقیقی دنیا پر اوورلے کی صورت میں نظر آتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سسٹم اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ فوجی صرف دیکھنے کے ذریعے ڈرونز اور روبوٹس کو کنٹرول کر سکیں گے۔امریکی فوج پہلے ہی اس منصوبے کے لیے 159 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہے، جبکہ توقع ہے کہ 2026 تک تقریباً 100 پروٹوٹائپس فراہم کیے جائیں گے۔
اس پیشرفت نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ سوشل میڈیا اور کمیونیکیشن کمپنی اب جنگی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی داخل ہو رہی ہے، اور ٹیکنالوجی کی سمت کس طرف جا رہی ہے۔