قومی شپنگ ادارے میں تاریخی تبدیلی، این ایل سی کو بھی حصص مل گئے، وزیر اعظم نے بڑی منظوری دیدی

قومی شپنگ ادارے میں تاریخی تبدیلی، این ایل سی کو بھی حصص مل گئے، وزیر اعظم نے بڑی منظوری دیدی

وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) میں نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کے 30 فیصد حصص کے حصول کی منظوری دے کر ملکی سمندری و لاجسٹکس شعبے میں بڑی تنظیم نو کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اس فیصلے کو سرکاری ملکیت کے 2 بڑے اداروں کے درمیان اسٹریٹجک اشتراک کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ اہم پیش رفت منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس)  کو جمع کرائے گئے باضابطہ نوٹس میں سامنے آئی۔ نوٹس کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کو وزارت بحری امور کی جانب سے وزیر اعظم کی منظوری سے متعلق باضابطہ اطلاع موصول ہو گئی ہے، جو قابل اطلاق قوانین اور کمپنی کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:این ایل سی کی فوڈ ایگ 2025 میں شرکت، لاجسٹکس حل متعارف

منظور شدہ تجویز کے تحت این ایل سی، پی این ایس سی میں 30 فیصد شیئر ہولڈنگ حاصل کرے گا، ساتھ ہی انتظامی کنٹرول اور انضمام سے متعلق حقوق بھی منتقل کیے جائیں گے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد شپنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اخراجات میں کمی لانا اور آپریشنل استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ تاہم اس لین دین کی مالی شرائط اور تکمیل کی حتمی مدت کے بارے میں تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

پی این ایس سی وزارت بحری امور کے تحت کام کرنے والا قومی شپنگ ادارہ ہے جو دنیا بھر میں خشک بلک اور مائع کارگو کی ترسیل انجام دیتا ہے۔ کارپوریشن اس وقت 12 جہازوں پر مشتمل بیڑے کا انتظام کر رہی ہے جن کی مجموعی وزن گنجائش 9 لاکھ 38 ہزار 876 ٹن ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اشتراک سے نہ صرف بیڑے کی استعداد کار بہتر ہو سکتی ہے بلکہ نئے جہازوں کی شمولیت اور بین الاقوامی روٹس میں توسیع کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

اپنے بنیادی شپنگ آپریشنز کے علاوہ پی این ایس سی جائیداد کے کاروبار اور ایک مرمتی ورکشاپ بھی چلاتا ہے، جس سے ادارے کو آمدن کے متنوع ذرائع حاصل ہیں۔ دوسری جانب نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن ملک بھر میں زمینی نقل و حمل، سپلائی چین مینجمنٹ اور انفراسٹرکچر معاونت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ دونوں اداروں کے اشتراک سے بندرگاہوں سے اندرون ملک ترسیل کے نظام کو ایک مربوط شکل دینے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں:نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کی حیران کُن کارکردگی، سوست ڈرائی پورٹ کو منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی آپریشنل رکھا

واضح رہے کہ یہ اقدام سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور وسائل کے مؤثر استعمال کی حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔ اگر انتظامی اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ کی گئیں تو اس شراکت سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہونے اور منافع میں اضافے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ تاہم بعض ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شفافیت، احتساب اور مسابقتی ماحول کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہوگا تاکہ یہ انضمام طویل المدت فوائد فراہم کر سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *