وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کا گنڈا پور کے الزامات پر کرارا جواب

وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کا گنڈا پور کے الزامات پر کرارا جواب

خیبر پختونخوا کی سیاست میں اس وقت کشیدگی بڑھ گئی ہے اور سابق و موجودہ وزرائے اعلیٰ آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ سیکیورٹی واپس لینے کے معاملے پر بیانات کی جنگ شدت اختیار کر گئی، جہاں ایک جانب سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اپنی سیکیورٹی واپس لیے جانے کا دعویٰ کیا، وہیں موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی سابق وزیر اعلیٰ کی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی واپس لینے کی بات سراسر بے بنیاد ہے اور حکومت اس حوالے سے کوئی ایسا اقدام نہیں کر رہی۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ “میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں سیکیورٹی واپس لیتا رہوں، ہماری اولین ترجیح بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ اگر کوئی نان ایشو کو ایشو بنا کر خبروں میں رہنا چاہتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں۔ ان کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں سابق وزیر اعلیٰ پر براہِ راست تنقید قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا ایکس اکاونٹ بند کرنے کا معاملہ،اسلام ہائیکورٹ سے بڑی خبر آگئی

دوسری جانب علی امین گنڈاپور نے گزشتہ روز اپنے پیغام میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ رات گیارہ بجے وزیر اعلیٰ کے ڈپٹی چیف سیکیورٹی افسر نے ان کے سیکیورٹی اہلکاروں کو کال کر کے ہدایت دی کہ وہ “کلوز” ہو جائیں۔ ان کے مطابق ان کے پاس صوبائی حکومت کی ایک جیمر اور ایک ڈبل کیبن گاڑی تھی جس کے ساتھ 14 اہلکار تعینات تھے، جنہیں ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اہلکاروں نے جب ان سے رہنمائی مانگی تو انہوں نے خود ہی انہیں واپس جانے کا کہہ دیا۔

سابق وزیر اعلیٰ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر اب انہیں دوبارہ سیکیورٹی فراہم بھی کی گئی تو وہ قبول نہیں کریں گے اور موجودہ وزیر اعلیٰ کو اس کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام غیر ضروری اور غیر مناسب تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے نے صوبائی حکومت کے اندر اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے نہ صرف الزامات کی تردید کی گئی بلکہ سخت الفاظ میں سابق وزیر اعلیٰ کے بیانیے کو مسترد بھی کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان فاصلے بڑھ چکے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *