ایک ایسی یادداشت جو کچھ نہیں بھولتی، نعمت یا زحمت؟

ایک ایسی یادداشت جو کچھ نہیں بھولتی، نعمت یا زحمت؟

انسانی دماغ کی صلاحیتیں آج بھی سائنسدانوں کے لیے حیرت کا باعث ہیں، لیکن ایک نایاب کیفیت ایسی بھی ہے جو یادداشت کو غیر معمولی حد تک طاقتور بنا دیتی ہے۔ اس کیفیت کو ہائپرتھامیسیا  یا ہائیلی سپیریئر آٹو بایوگرافیکل میموری کہا جاتا ہے۔

اس حالت میں مبتلا افراد اپنی زندگی کے گزرے ہوئے دنوں، واقعات اور یادوں کو حیران کن حد تک تفصیل کے ساتھ یاد رکھ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ عام تیز یادداشت سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :انڈے کا رنگ یا حقیقت کچھ اور؟سپر مارکیٹ کے فیصلے نے سب کو چونکا دیا

عام طور پر اچھی یادداشت رکھنے والے افراد کتابوں کے اقتباسات، فارمولے یا اعداد یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ہائپرتھامیسیا کے حامل افراد اپنی ذاتی زندگی کے واقعات کو غیر معمولی تفصیل سے یاد رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر انہیں برسوں پرانی کوئی تاریخ بتائی جائے تو وہ فوری طور پر بتا سکتے ہیں کہ اس دن کون سا دن تھا، انہوں نے کیا کیا تھا، کیا لباس پہنا تھا، کیا کھایا تھا اور اس وقت دنیا میں کون سے اہم واقعات پیش آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :ایک ہی لاٹری میں 3 بارجیت نےشہری کو 4کروڑ سے زیادہ کا مالک بنا دیا

اس نایاب کیفیت پر دنیا کی توجہ اس وقت مبذول ہوئی جب 2006 میں امریکی خاتون جِل پرائس میں اس کی تصدیق ہوئی۔ جِل پرائس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 12 سال کی عمر کے بعد اپنی زندگی کے تقریباً ہر دن کی تفصیلات یاد رکھ سکتی ہیں۔

اگرچہ یہ صلاحیت بظاہر کسی سپر پاور جیسی محسوس ہوتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کے منفی پہلو بھی موجود ہیں۔ہائپرتھامیسیا کے شکار افراد ماضی کے تلخ تجربات، صدمات اور جذباتی تکالیف کو بھلا نہیں پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد ذہنی دباؤ، اضطراب اور بے خوابی جیسے مسائل کا سامنا بھی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :بجلی کے بغیر ٹھنڈا پانی، صحرائی علاقوں کی روایتی ٹیکنالوجی

سائنسدانوں کے مطابق دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد انتہائی محدود ہے اور ان پر مسلسل تحقیق کی جا رہی ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ اس نایاب کیفیت کو سمجھ کر مستقبل میں الزائمر اور یادداشت سے متعلق دیگر بیماریوں کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔یہ نایاب حالت ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ انسانی دماغ اب بھی اپنے اندر بے شمار راز سموئے ہوئے ہے۔

editor

Related Articles