برطانیہ کی معروف سپر مارکیٹ چین سینسبریز نے کاربن اخراج میں کمی لانے کے لیے ایک نیا فیصلہ کرتے ہوئے براؤن انڈوں کی فروخت بند کرنے اور صرف سفید انڈے فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی کے اس اقدام کے بعد عوامی سطح پر یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ آیا سفید اور براؤن انڈوں میں غذائیت یا معیار کے لحاظ سے کوئی فرق موجود ہے یا نہیں۔
سینسبریز کی تحقیق کے مطابق سفید انڈوں کی پیداوار کے دوران کاربن اخراج براؤن انڈوں کے مقابلے میں تقریباً 12.7 فیصد کم ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سفید انڈے دینے والی مرغیوں کو نسبتاً کم خوراک درکار ہوتی ہے، جس سے وسائل کا استعمال کم اور ماحول پر دباؤ بھی کم ہو جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں ہر سال اربوں انڈے استعمال کیے جاتے ہیں، جن کی پیداوار سے لاکھوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہوتی ہے۔ اگر پوری انڈہ انڈسٹری میں 12.7 فیصد کمی حاصل ہو جائے تو سالانہ لاکھوں ٹن کاربن کے اخراج میں کمی ممکن ہے، جو لاکھوں گاڑیوں کے اخراج کے برابر تصور کی جا رہی ہے۔
تاہم غذائیت کے حوالے سے ماہرین واضح کرتے ہیں کہ سفید اور براؤن انڈوں میں کوئی نمایاں فرق نہیں پایا جاتا۔ برطانوی فوڈ اتھارٹیز کے مطابق انڈے کے چھلکے کا رنگ صرف مرغی کی نسل پر منحصر ہوتا ہے، غذائیت پر نہیں۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ انڈے کی زردی کا رنگ اس کی غذائیت کا معیار نہیں ہوتا بلکہ یہ مرغی کی خوراک پر منحصر ہوتا ہے۔ کیروٹینائیڈز سے بھرپور خوراک دینے سے زردی کا رنگ زیادہ گہرا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انڈے کی اصل کوالٹی جانچنے کے لیے اس پر درج کوڈ زیادہ اہم ہوتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مرغی کس ماحول میں پرورش پائی ہے۔سینسبریز کے اس فیصلے کو ماحولیاتی بہتری کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس نے صارفین کے درمیان نئی بحث کو بھی جنم دے دیا ہے۔