وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے میں کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا،انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں وفد سے اہم ملاقاتیں طے ہیں اور حکومت معاشی اہداف کے حصول کے لیے پُرعزم ہے۔
بدھ کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کا وفد پیر کے روز اسلام آباد میں حکام سے تفصیلی بات چیت کرے گا،مذاکرات میں محصولات، مالی نظم و ضبط اور جاری اصلاحاتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے حکومت بہتر پوزیشن میں ہے اور محصولات کے اہداف کے حصول کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے وفد کے ساتھ ٹیکس آمدن سے متعلق پیش رفت پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔
وزیر خزانہ نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے رکھوائے گئے ذخائر کے حوالے سے بھی وضاحت کی اور کہا کہ ان کی مدت میں توسیع کے معاملے پر کوئی مسئلہ درپیش نہیں، رابطے جاری ہیں اور معاملات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کے لیے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان کراچی میں بھی مذاکرات جاری ہیں۔
اس کے علاوہ ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کے لچکدار اور پائیدار سہولت پروگرام کے دوسرے جائزے پر بھی بات چیت ہوگی، وزیر خزانہ کے مطابق حکومت معاشی استحکام، محصولات میں اضافے اور اصلاحات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔