کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک چینی شہری کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ہزاروں زندہ چیونٹیاں ملک سے باہر اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ائیر پورٹ حکام کے مطابق ملزم ژانگ کیوکن کے سامان کی تلاشی کے دوران 2,200 زندہ ملکہ گارڈن چیونٹیاں برآمد ہوئیں جو خصوصی ٹیوبز اور ٹشو پیپر میں چھپا کر بیگ میں رکھی گئی تھیں۔
گذشتہ ماہ پیش آنے والے اس واقعے میں گرفتاری کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد اسے 1 سال قید کی سزا سنائی اور 10 لاکھ کینین شلنگ (تقریباً 5,700 پاؤنڈ) جرمانہ بھی عائد کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس نوعیت کے کیسز میں سخت سزا ضروری ہے تاکہ بڑھتی ہوئی جنگلی حیات کی اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق کینیا میں حالیہ برسوں کے دوران چیونٹیوں کی اسمگلنگ کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جو یورپ اور ایشیا کی مارکیٹوں سے منسلک بتائے جاتے ہیں۔ بعض ممالک میں ان چیونٹیوں کو شیشے کے مخصوص ڈبوں میں پالا جاتا ہے تاکہ ان کے رویے اور سماجی ڈھانچے کا مطالعہ کیا جا سکے۔
ائیر پورٹ حکام کے مطابق ملزم نے ابتدا میں جرم سے انکار کیا تھا تاہم بعد میں انہوں نے اعترافِ جرم کر لیا۔ اس کیس میں ایک مقامی شخص پر بھی فردِ جرم عائد کی گئی ہے جس پر ملزم کو چیونٹیاں فراہم کرنے کا الزام ہے۔
کینین حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کیسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب غیر قانونی اسمگلنگ صرف ہاتھی دانت یا بڑے جانوروں تک محدود نہیں رہی بلکہ چھوٹے جاندار بھی اس کا حصہ بن رہے ہیں