اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں نامزد رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے ثاقب چڈھر کو 24 جون تک گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی جہاں عبوری ضمانت کی درخواست پر کارروائی کی گئی ، اہن سی سی آئی اے نے ثاقب چڈھر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس کے بعد عدالت سے عبوری ریلیف حاصل کیا گیا ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ، مدعیٔ مقدمہ کے مطابق ثاقب چدھڑ اور ان کے ساتھیوں نے بلیک میلنگ کی اور دھمکیاں دیں ، ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے دھمکی دی کہ اگر شادی نہ کی گئی تو متعلقہ ڈیٹا لیک کر دیا جائے گا، مومنہ اقبال کی بہن نے دھمکیوں سے متعلق ویڈیو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو فراہم کی تھیں ۔
این سی سی اے میں درج مقدمہ کے مطابق ملزم ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور ساتھیوں نے سائبر ہراسگی اور بلیک میلنگ کی، ملزمان غیر قانونی طور پر سرویلنس کرتے رہے اور مومنہ اقبال سمیت ان کے اہلِ خانہ کو دھمکیاں دیتے رہے، رکنِ صوبائی اسمبلی نے موبائل این سی سی آئی اے کو جمع کروانے سے پہلے تمام ڈیٹا اور ایپس بھی ڈیلیٹ کر دیں۔
یاد رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے چند روز قبل رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں شکایت درج کروائی تھی۔