ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لبنان پر جاری حملے علاقائی امن کی امید کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ترک صدر نے اپنے بیان میں کہنا ہے کہ ایران کی جنگ بندی سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے ، ترکیہ ایران جنگ بندی میں توسیع، کشیدگی میں کمی اور امریکا ایران مذاکرات کے تسلسل کے لیے کام کر رہا ہے۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ مسائل کے باوجود امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
دوسری جانب اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
ایرانی صدر نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ دشمن کی مرضی مسلط کرنے یا سرینڈر پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو گی۔
قبل ازیں ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایران کے بعد ترکیہ کو اپنا نیا دشمن قرار دے سکتا ہے، اسرائیل دشمن کے بغیر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا، ایران امریکا جنگ بندی میں مخلص ہیں مگراسرائیل خلل ڈال سکتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک خود مختاری کا احترام، علاقائی سیکیورٹی کا معاہدہ کریں، یونان، قبرص، اسرائیل کا ایک دوسرے سے تعاون خطے میں کشیدگی والاہے۔