معروف اداکارہ نجیبہ فیض نے پاک افغانستان کی حالیہ کشیدگی پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے افغان طالبان کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے گزشتہ کئی سالوں سے افغانستان کی خواتین کی زبان بندی کی کوشش کی گئی، لیکن آج جب انہیں ضرورت پیش آئی تو انہی خواتین سے رپورٹنگ کرائی جا رہی ہے اور ان کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔
نجیبہ فیض کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیاں عائد رہیں اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ تاہم آج افغان طالبان کو یہ احساس ہوا ہے کہ جنسی تفریق سے بالاتر ہو کر یہی خواتین افغانستان کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی افغانستان کے عوام کی جنگ نہیں بلکہ یہ تحریک طالبان پاکستان اور تحریک طالبان افغانستان کے مفادات کی جنگ ہے۔ ان کے مطابق کئی سال بعد پہلی مرتبہ افغانستان کی خواتین صحافیوں کو رپورٹنگ کرتے دیکھا گیا ہے، جو اس تضاد کو واضح کرتا ہے۔
اداکارہ نے کہا کہ افغانستان کے عوام، خصوصاً مائیں اور بہنیں، ان جنگوں سے تنگ آ چکی ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے عوام کو ایک بار پھر ٹی ٹی پی کے مفادات کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔