وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر افغان طالبان باز نہ آئے تو ان کا وجود بھی نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے متفقہ طور پر فیصلہ کر رکھا ہے کہ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے پوری قیادت ایک صفحے پر ہے، انہوں نے کہا کہ قوم کو یقین ہونا چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہوں گی، سینیٹ کے اجلاس میں اتفاق رائے سے قرارداد منظور کی گئی اور اب قومی اسمبلی میں بھی متفقہ قرارداد منظور کی جائے گی۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ افغان رجیم نے باقاعدہ حکومت کا درجہ اختیار کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان رجیم ایک جتھہ ہے جو بندوق کی طاقت سے مسلط ہے اور پاکستان کو جس دہشت گردی کا سامنا ہے اس میں وہ پوری طرح ملوث ہیں، رانا ثنااللہ نے کہا کہ زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
رانا ثنااللہ نے بتایا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوبارہ ردعمل دیں، تاہم پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا فیصلہ اٹل ہے کہ دہشت گردی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ کوئی مذاکرات یا بات چیت نہیں ہو سکتی جب تک دہشت گرد اپنے انجام تک نہیں پہنچ جاتے، مسلح افواج کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔