پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن “غضب للحق” نے عسکری کے ساتھ ساتھ لسانی اور علامتی حوالوں سے بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ کارروائی افغان سرحد پار حملوں اور مبینہ بلااشتعال جارحیت کے جواب میں کی گئی، جسے “حق کے دفاع” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
لسانی اعتبار سے “غضب للحق” ایک عربی ترکیب ہے جو تین اجزاء پر مشتمل ہے۔ لفظ “غضب” شدید ردعمل یا سخت جوش کو ظاہر کرتا ہے، “لِل” کا مطلب “کے لیے” یا “کی خاطر” ہے، جبکہ “حق” سچائی، انصاف اور جائز مؤقف کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح اس ترکیب کا مفہوم بنتا ہے: “حق کے لیے غضب” یا “انصاف کے لیے سخت ردعمل”۔ اصطلاحی طور پر اس نام کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ کارروائی کو جارحیت نہیں بلکہ دفاعِ حق کے طور پر دیکھا جائے۔
پاکستانی عسکری تاریخ میں آپریشنز کے ناموں کا انتخاب محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک علامتی روایت کا حصہ رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں کیے گئے اہم آپریشنز کے نام زیادہ تر عربی زبان سے لیے گئے اور ان کے ذریعے ایک اخلاقی یا نظریاتی پیغام بھی دیا گیا۔
سنہ 2014 میں شروع ہونے والا ضربِ عضب دہشت گردی کے خلاف ایک بڑے اور فیصلہ کن مرحلے کے طور پر سامنے آیا۔ “ضرب” کا مطلب وار کرنا جبکہ “عضب” کو پیغمبر اسلام ﷺ کی تلوار کا نام قرار دیا جاتا ہے، جس سے مجموعی مفہوم “فیصلہ کن ضرب” کا بنتا ہے۔
اسی طرح سنہ 2017 میں شروع کیے گئے ردُّ الفساد کا مطلب “فساد کا رد” یا “بدامنی کا خاتمہ” تھا، جس کے ذریعے ملک بھر میں سکیورٹی آپریشنز کو ایک جامع حکمت عملی کے تحت جاری رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد سے پشاور تک عبادت گاہوں پر دہشت گردوں کے خونریز حملوں کی طویل فہرست،سینکڑوں بے گناہ نمازی شہید ہوے

