یورپی یونین نے پاکستان اور افغانستان جنگ میں کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور دیا ہے ، سبراہ ای یو خارجہ پالیسی کایاکلاس نے جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے افغان ڈی فیکٹو حکام سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیاکہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے۔
دوسری جانب عالمی برادری نے پاک افغان جھڑپوں پر شدید تشویش کا اظہا ر کیا ہے ، ترکیہ نے پاکستان اورافغانستان کے درمیان حالیہ تنازع حل کرانے کے لیے دونوں ملکوں کے حکام سے رابطہ کیا ہے۔
ترک وزیر خارجہ ہقان فدان نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سے فون پر بات کی اور پھر افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے بھی رابطہ کیا۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کے لیے مخلصانہ کردار کی پیشکش کی۔
برطانیہ، روس، چین، ملائیشیا نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں، اختلافات بات چیت اور مذاکرات سے حل کریں۔
چین نے فوری طور پر لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات پر زور دیا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ کشیدگی میں کمی کے لیے فوری اقدامات کریں۔
روسی وزارت خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کو خطرناک تصادم سے گریز کرنے اور کشیدگی کم کرنے پر زورد یا اور کہا کہ دونوں ممالک اختلافات سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔