اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کی ابتدائی اطلاعات کے مطابق تہران میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ غیر مصدقہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ چند میزائل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے قریب گرے۔ تاہم ایرانی حکام کی طرف سے اس مخصوص مقام کو نشانہ بنائے جانے یا کسی جانی نقصان کی باقاعدہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
علاقائی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملے کے بعد دارالحکومت تہران کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مختلف مقامات سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بعض دھماکوں کی تصدیق کی ہے تاہم سپریم لیڈر کے دفتر کے قریب کسی بڑے نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔