سعودی عرب، دبئی، ابوظہبی ، بحرین، کویت ، قطر، عراق میں امریکی تنصیبات پر ایران کے میزائل حملے شروع

سعودی عرب، دبئی، ابوظہبی ، بحرین، کویت ، قطر، عراق میں امریکی تنصیبات پر ایران کے میزائل حملے شروع

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، ایران نے اسرائیل اور امریکا کے مبینہ مشترکہ حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا دیا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے سعودی عرب کے دارالحکومت  ریاض ، قطر، متحدہ عرب امارات کے شہروں ابوظہبی اور دبئی، ساتھ ہی  اردن ، بحرین، عراق اور کویت میں موجود امریکی تنصیبات کو ہدف بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے جوابی حملہ، آپریشن کو ’فتح خیبر‘ کا نام دے دیا

رپورٹس کے مطابق ابوظہبی میں آنے والے دو ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں انٹرسیپٹ کر لیا گیا تاہم ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔ ابتدائی علاقائی ذرائع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ابوظہبی کے قریب آنے والے خطرات کو بروقت روکنے کی کوشش کی جبکہ شہر میں سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا اہم ہدف متحدہ عرب امارات کا الظفرہ ایئر بیس بتایا جا رہا ہے۔ الدفرا ایئر بیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی آپریشنز کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں امریکی ایئر بیس کا 380 واں ایکسپیڈیشنری ونگ تعینات ہے۔ یہ ونگ ریکانائسنس، فضائی ری فیولنگ اور جنگی معاونت کے طیارے آپریٹ کرتا ہے جو خطے میں جاری مختلف مشنز کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

بعد ازاں سامنے آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات میں تعینات ٹرمینل ہائی ایئر الٹییوٹ یعنی تھاڈ سسٹم نے ابوظہبی کی فضاؤں میں داخل ہونے والے دو بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے روکا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں انٹرسیپٹر میزائلوں کی لانچ اور فضا میں چمکتے دھماکے دکھائی دیے جو تھاڈ کے انگیجمنٹ پروفائل سے مطابقت رکھتے ہیں۔

تھاڈ سسٹم کو خاص طور پر مختصر اور درمیانے فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں کو ان کے آخری مرحلے میں تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ طاقتور ریڈار ٹریکنگ اور ہٹ ٹو کل ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، جس میں دھماکہ خیز وار ہیڈ کے بجائے براہ راست حرکی توانائی کے ذریعے ہدف کو تباہ کیا جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں امریکی اثاثوں کے تحفظ میں اس سسٹم کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں فوجی نقل و حرکت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے مقامات کو نشانہ بنانے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع علاقائی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

عالمی برادری کی نظریں اب واشنگٹن اور تہران کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں جبکہ خلیجی ریاستوں نے اپنے دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ آنے والے گھنٹے اور دن خطے کی سلامتی اور عالمی استحکام کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *