کراچی میں ایران کی حالیہ صورتحال اور شہادتوں پر اظہارِ یکجہتی کے سلسلے میں آج 2 مارچ 2026 کو اہم جامعات اور تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔ مختلف جامعات کی جانب سے باقاعدہ اعلامیے جاری کرتے ہوئے کلاسز اور امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
جامعہ کراچی کے رجسٹرار کے مطابق شہدائے ایران سے اظہارِ یکجہتی اور سوگ کے طور پر آج جامعہ میں تمام کلاسز معطل رہیں گی جبکہ شیڈول کے مطابق ہونے والے تمام امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد ازاں کیا جائے گا اور طلبہ کو باضابطہ اطلاع فراہم کی جائے گی۔ جامعہ کے مختلف شعبہ جات میں تدریسی عمل مکمل طور پر بند رہا جبکہ کیمپس میں غیر معمولی سناٹا دیکھنے میں آیا۔
ادھر سر سید یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بھی پیر 2 مارچ کو طلبہ کے لیے جامعہ بند رکھنے کا اعلان کیا۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام کلاسز ملتوی کر دی گئی ہیں، تاہم فیکلٹی اور عملے کو معمول کے مطابق حاضر ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امتحانی نتائج کی تیاری اور رجسٹریشن سے متعلق انتظامی امور شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے تاکہ تعلیمی سال کے معاملات متاثر نہ ہوں۔ اس سلسلے میں رجسٹرار سید سرفراز علی کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
اسی طرح وفاقی اردو یونیورسٹی نے بھی ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت اور ایران پر حملوں میں دو سو سے زائد افراد کی شہادت پر اظہارِ تعزیت کے لیے آج جامعہ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یونیورسٹی کے تینوں کیمپسز میں تدریسی و غیر تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں۔ انتظامیہ کے مطابق صورتحال کے پیش نظر آج کوئی تعلیمی سرگرمی نہیں ہوگی اور آئندہ کے لائحہ عمل سے طلبہ کو آگاہ کیا جائے گا۔
مزید برآں ڈی ایچ اے کالجز اینڈ اسکولنگ سسٹم کے تحت چلنے والے تعلیمی ادارے بھی آج بند رہے۔ مختلف کیمپسز میں طلبہ کی آمد روک دی گئی جبکہ انتظامی امور محدود سطح پر انجام دیے گئے۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث ملک بھر میں مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں کی جانب سے یکجہتی اور تعزیت کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
طلبہ تنظیموں کی جانب سے بھی شہداء کے لیے دعائیہ تقریبات اور تعزیتی اجتماعات منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شہر کے مختلف تعلیمی مراکز میں سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔