خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سائبر حملوں کے خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جس کے پیش نظر نیشنل سرٹ ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے نئی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
ایڈوائزری میں حکومتی، دفاعی اور مالیاتی اداروں کو فوری طور پر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ممکنہ سائبر خطرات سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔نیشنل سرٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سائبر حملوں کا نشانہ سرکاری ادارے، دفاعی نظام اور مالیاتی شعبہ بن سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیپ فیکس ٹیکنالوجی، اسپیئر فشنگ حملے اور تقسیم شدہ سروس انکار حملوں یعنی ڈی ڈی اوایس حملوں کا خطرہ موجود ہے، جن کے ذریعے اہم معلومات چوری یا نظام کو غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ہیک ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ بینکنگ اور مالیاتی نظام کو رینسم ویئر حملوں سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
اس سلسلے میں سرکاری ملازمین اور عام شہریوں کو مشکوک لنکس، غیر مصدقہ ایپلیکیشنز اور نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والے پیغامات سے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حفاظتی اقدامات کے طور پر ملٹی فیکٹر شناختی نظام کو لازمی استعمال کرنے اور تمام نظاموں کی فوری تازہ کاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صارفین اور سرکاری ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ ایپلیکیشنز اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر میں ڈاؤن لوڈ نہ کریں کیونکہ اس سے سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈیپ فیکس اور جعلی معلومات کے ذریعے نفسیاتی جنگ چھیڑنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے، اس صورتحال کے پیش نظر آئی ٹی ٹیموں کو فوری طور پر خطرات کا تجزیہ کرنے، تھریٹ ہنٹنگ شروع کرنے اور باقاعدہ سکیورٹی آڈٹ کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے کی موجودہ سیاسی اور عسکری کشیدگی سائبر جنگ کے خطرات کو بھی بڑھا سکتی ہے، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔