پاکستانی نوجوان نے اپنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس سیکیورٹی کمپنی کتنے میں فروخت کی؟، جان کر آپ بھی ’دھک سے رہ جائیں گے‘

پاکستانی نوجوان نے اپنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس سیکیورٹی کمپنی کتنے میں فروخت کی؟، جان کر آپ بھی ’دھک سے رہ جائیں گے‘

پاکستانی نوجوان اور این ای ڈی یونیورسٹی کے گریجویٹ ریحان جلیل نے اپنی اے آئی سکیورٹی کمپنی ایک شاندار کاروباری ڈیل میں امریکی سوفٹ ویئر گروپ ‘وی ایم’ کو فروخت کر دی۔ اس ڈیل کی مالیت ایک ارب 70 کروڑ ڈالرز یعنی تقریباً 4 کھرب 77 ارب پاکستانی روپے بتائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’اوپن اے آئی ‘ اب سُر کی دُنیا میں دھاک بٹھانے کو تیار، نا قابل یقین نیا ٹول متعارف

ریحان جلیل نے این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کراچی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد تکنیکی شعبے میں قدم رکھا۔ ان کی کمپنی نے مختصر وقت میں ہی اے آئی اور سکیورٹی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر لی تھی۔

ذرائع کے مطابق اس ڈیل کے تحت ریحان جلیل کی کمپنی کے ‘اے آئی گورننس ٹولز’ کو وی ایم کی پروڈکٹ لائن میں شامل کیا جائے گا، جس سے کمپنی کی عالمی مارکیٹ میں رسائی اور تکنیکی اثر و رسوخ میں اضافہ متوقع ہے۔

ڈیل مکمل ہونے کے بعد ریحان جلیل امریکی سوفٹ ویئر گروپ میں سکیورٹی اور اے آئی کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی حیثیت بلکہ پاکستان کے لیے بھی فخر کا مقام قائم ہوگا۔

مزید پڑھیں:’اے آئی ‘ ٹیکنالوجی ایک قدم اور آگے، میٹا نے ڈسپلے والی پہلی اسمارٹ عینک متعارف کرا دی

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل پاکستان کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں نوجوانوں کے لیے ایک مثبت مثال ہے اور اس سے ملکی اسٹارٹ اپس اور ٹیک انٹرپرینیورشپ کو عالمی سطح پر پذیرائی ملے گی۔

ریحان جلیل نے اس موقع پر کہا کہ ‘یہ کامیابی محض میری نہیں بلکہ پاکستان کے ٹیکنالوجی اور جدت پسند نوجوانوں کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان عالمی معیار کے حل پیش کر کے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔’

اس ڈیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی اسٹارٹ اپس نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی مقابلہ کر سکتے ہیں اور اپنی جدت کے ذریعے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کو شوبز یا بزنس میگزین اسٹائل میں بھی ڈھال سکتا ہوں تاکہ زیادہ پروفیشنل اور پرکشش لگے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *