پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت کے درمیان جاری تنازع میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، سیٹلائٹ تصاویر سے تصدیق ہوئی ہے کہ پاکستانی طیاروں نے بگرام ایئر بیس پر حملے کیے جس سے بگرام ایئر بیس پر موجود اہم تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے نئی حاصل کردہ سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایئر بیس پر موجود گوداموں کو تباہ کر دیا گیا ہے جو امریکا کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے بنیادی مرکز کے طور پر کام کرتے تھے، جو طالبان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ تھا۔
یہ پیشرفت پاکستان کی طرف سے ایک جرات مندانہ اقدام تصور کی جا رہی ہے جسے حکام طالبان انتظامیہ کے خلاف ’کھلی جنگ‘ قرار دے رہے ہیں۔
حملے اتوار، 2 مارچ 2026 کو ہوئے، جن میں پروان صوبے میں بگرام ایئر بیس کے شمالی حصے کو نشانہ بنایا گیا، جو کابل سے تقریباً 40 میل شمال میں واقع ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق کم از کم 2 بڑے گودام اور ایک طیارہ ہینگر تباہ ہوئے۔ یہ ڈھانچے، جو طالبان کے لیے ’قیمتی اثاثہ‘ کے طور پر بیان کیے گئے، لاجسٹک اور آپریشنل مرکزی مراکز کے طور پر کام کرتے تھے۔
قبل اور بعد کی تصاویر کے موازنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکمل عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، جس میں ملبہ پھیلا ہوا ہے، جو نیویارک ٹائمز کی جانب سے فراہم کردہ سیٹلائٹ تصاویر سے مطابقت رکھتا ہے جو نشان زد علاقوں میں اسی طرح کی تباہی کو نمایاں کرتی ہیں۔
تاہم دوسری جانب پروان صوبے کی پولیس کے ترجمان فضل رحیم مسکین یار نے کہا کہ کئی پاکستانی جنگی طیاروں نے مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے بمباری کی کوشش کی، لیکن افغان اینٹی ایئرکرافٹ ہتھیاروں نے میزائلوں کو روک لیا، جس سے کوئی جانی یا اہم نقصان نہیں ہوا۔
ادھر نیویارک ٹائمز کی جانب سے فراہم کردہ آزاد سیٹلائٹ امیجز فضل رحیم مسکین یار کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور پاکستانی آپریشن کی کامیابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ادھر پاکستان نے بگرام حملوں کی تفصیلات پر سرکاری طور پر تبصرہ نہیں کیا تاہم ذرائع نے مقامی رہائشیوں اور تصاویر کے تجزیے کے ذریعے کارروائی کی تصدیق کی ہے۔
یہ افغان طالبان کارندوں کے پاکستان کی اگلی پوسٹوں پر حملوں کے خلاف جوابی کارروائیوں کا تسلسل ہے، بشمول طالبان کی طرف سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر 50 سے زیادہ حملوں کے بعد افغانستان میں 20 سے زیادہ مقامات پر پاکستانی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان خراب تعلقات کی وجہ سرحدی تنازعات، دہشتگردوں کو پناہ دینے کے الزامات اور سرحد پار حملوں سے جڑا ہوا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بگرام ایئر بیس کی ’قبل‘ اور ’بعد‘ کی سیٹلائٹ تصاویر دکھائی ہیں یہ میڈیا رپورٹس کے بیانات سے بھی مطابقت رکھتی ہیں، حملے سے پہلے کی تصاویر میں منظم گودام اور ڈھانچے دکھائی دیے جا رہے ہیں، جبکہ حملے کے بعد کی تصاویر میں گری ہوئی عمارتیں اور ملبے کے ڈھیر صاف نظر آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں قندھار اور کابل میں اسلحہ ڈپوؤں پر پاکستانی حملے اب بھی جاری ہیں، اس سے قبل دونوں ممالک نے ماضی میں عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن مستقل امن قائم نہ رہ سکا۔