امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا ایران سے متعلق امریکی منصوبے کے بارے میں اہم انکشاف

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا ایران سے متعلق امریکی منصوبے کے بارے میں اہم انکشاف

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے مختلف آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے ممکنہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی جا چکی ہے۔

رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں اور انہیں دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کے تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ نے تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ ان اہداف میں حکومتی علامتی مراکز اور وہ تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں جو براہِ راست فوجی نوعیت کی نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکہ کا ایران پر حملہ: بھارت نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت امریکہ کی مدد کی

نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے تاحال ایران پر حملوں سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں محدود مگر سخت فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کا مقصد ایرانی قیادت پر دباؤ بڑھانا ہو، نہ کہ مکمل جنگ کی طرف جانا۔ اسی لیے غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی تجویز کو ایک ’علامتی مگر سخت پیغام‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہرے تیرہویں روز میں داخل ہو چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ان مظاہروں اور جھڑپوں میں 15 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ روز معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا تھا کہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 217 تک پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں:ایران کا خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ، صدر ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ایرانی قیادت کو کھلے الفاظ میں خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران آج ماضی کے مقابلے میں آزادی کی جانب زیادہ دیکھ رہا ہے اور امریکا اس جدوجہد میں ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی بھی نوعیت کی کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *