انڈونیشیا میں 6.1 شدت کا زلزلہ، سماٹرا لرز اٹھا

انڈونیشیا میں 6.1 شدت کا زلزلہ، سماٹرا لرز اٹھا

انڈونیشیا کے مغربی حصے میں واقع جزیرہ سماٹرا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں اور دفتروں سے باہر نکل آئے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 13 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا، جس کے باعث جھٹکے خاصے واضح محسوس کیے گئے، ماہرین کے مطابق کم گہرائی میں آنے والے زلزلے عموماً زیادہ شدت کے ساتھ سطح پر محسوس ہوتے ہیں اور ان سے نقصان کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد، راولپنڈی سمیت ملک بھر میں 6.3 شدت کا زلزلہ

زلزلے کے جھٹکے سماٹرا کے ساحلی شہر آچے اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، بعض مقامات پر عمارتیں ہلنے سے لوگ خوفزدہ ہو گئے جبکہ کئی تعلیمی اداروں اور دفاتر کو احتیاطاً خالی کرا لیا گیا، مقامی حکام نے فوری طور پر صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے امدادی ٹیمیں روانہ کر دیں۔

حکام کی جانب سے زلزلے کے بعد سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سماٹرا زلزلہ خیز پٹی پر واقع ہے تاہم ابتدائی جائزوں کے مطابق سمندر میں ایسی بڑی لہریں پیدا نہیں ہوئیں جو سونامی کا سبب بن سکیں، اس کے باوجود ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم چند عمارتوں میں معمولی دراڑیں پڑنے اور بجلی کی عارضی بندش کی اطلاعات ملی ہیں، ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اعلانات پر یقین کریں۔

یاد رہے کہ انڈونیشیا بحرالکاہل کے آتش فشانی خطے میں واقع ہے جہاں زمینی پلیٹوں کی حرکت کے باعث اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں، ماضی میں بھی اس خطے میں آنے والے طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس کے بعد حکومت نے ہنگامی ردعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کیے۔

ماہرین ارضیات کے مطابق آئندہ چند دنوں میں آفٹر شاکس کا امکان موجود ہے، اس لیے شہریوں کو محتاط رہنے اور ہنگامی صورت حال میں محفوظ مقامات کا رخ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مقامی انتظامیہ مسلسل صورت حال کی نگرانی کر رہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *