وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کا ایک اہم بند کمرہ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
یہ اجلاس کل صبح ساڑھے گیارہ بجے منعقد ہو گا،جس میں ملکی سلامتی، سفارتی حکمت عملی اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات کے تناظر میں تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
وزیر قانون کے مطابق اجلاس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ موجودہ حالات پر مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔۔انہوں نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا جا رہا ہے تاکہ قومی سطح پر اتفاق رائے کو فروغ دیا جا سکے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اس اہم مشاورت کا فیصلہ وزیر اعظم کی ہدایت پر کیا گیا ہے، وزیر اعظم نے تمام متعلقہ امور پر سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے اور اجتماعی دانش سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جس کے بعد یہ ذمہ داری وزیر قانون کو سونپی گئی کہ وہ پارلیمانی قائدین سے رابطہ کر کے اجلاس کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایک حساس مرحلے سے گزررہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔
وزیر قانون نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ایران ہمارا قریبی اور اہم ہمسایہ ہے، جب کہ سعودی عرب اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ بھی پاکستان کے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات قائم ہیں،ایسے میں متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے تمام پارلیمانی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اجلاس میں بھرپور شرکت کریں اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متحدہ مؤقف اختیار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔