دودھ کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کا نیا مطالبہ بھی سامنے آگیا

دودھ کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، ڈیری فارمرز  ایسوسی ایشن کا نیا مطالبہ بھی سامنے آگیا

کراچی میں مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے شہر میں دودھ کی قیمت میں اضافے کے لیے کمشنر کراچی کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دودھ کی فی لیٹر قیمت 320 روپے مقرر کی جائے۔

ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس وقت کراچی میں دودھ کی سرکاری قیمت 250 روپے فی لیٹر ہے، تاہم چارہ، جانوروں کی خوراک، بجلی، پانی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث فارمرز کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ ایسوسی ایشن نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ قیمت پر دودھ فروخت کرنے سے انہیں فی لیٹر تقریباً 70 روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے جو اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب فود اتھارٹی اور اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی مشترکہ کاروائی، 8 ہزار سے زائد دودھ کا محلول تلف

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جانوروں کے چارے، ویٹرنری ادویات، مزدوری اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث دودھ کی پیداوار کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ ڈیری فارمرز کا کہنا ہے کہ اگر قیمت میں فوری اضافہ نہ کیا گیا تو کئی فارمرز کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں جس سے شہر میں دودھ کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

ایسوسی ایشن نے کمشنر کراچی سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر قیمتوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور دودھ کی نئی قیمت 320 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے تاکہ فارمرز کو درپیش مالی مشکلات کم ہو سکیں۔

دوسری جانب ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مختلف شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث موجودہ کرایوں پر سروس چلانا ممکن نہیں رہا۔

پاکستان ریلویز نے بھی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے بعد مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے کرایوں میں فوری اضافہ کر دیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق ایندھن اور آپریشنل اخراجات بڑھنے کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔
مزید پڑھیں:رمضان میں دودھ اور دہی کی قیمتیں مقرر کردی گئی

ماہرین معاشیات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اگر ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں مہنگائی میں مزید تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ پہلے ہی مہنگائی کی شرح عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر دودھ سمیت دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو عام لوگوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *