ہفتہ وار مہنگائی میں مزید اضافہ ، ٹماٹر، آلو سمیت 25 اشیاء کی قیمتیں بے قابو

ہفتہ وار مہنگائی میں مزید اضافہ ، ٹماٹر، آلو سمیت 25 اشیاء  کی قیمتیں بے قابو

مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے جینا ہوا محال ، ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کے گھریلو اخراجات بے قابو ہوگئے ہیں۔

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.46 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھ کر 15.28 فیصد کی سطح تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے 25 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 11 اشیاء سستی ہوئیں اور 15 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

مہنگی ہونے والی اشیاء میں ٹماٹر سرفہرست رہے جن کی قیمت میں 16.65 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آلو 6.82 فیصد اور مرغی 5.60 فیصد مہنگی ہوئی۔ اس کے علاوہ صابن، گڑ، مٹن، ایل پی جی، انڈے، دودھ اور دہی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی ، جس میں  پیاز 2.98 فیصد، لہسن 2.51 فیصد اور کیلے 1.28 فیصد سستے ہوئے،  اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں 1.06 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ آٹا، دال ماش، دال مونگ اور ڈیزل بھی نسبتاً سستے ہوئے۔

سالانہ بنیادوں پر قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو پیاز 79.76 فیصد اور ٹماٹر 68.59 فیصد مہنگے ہوئے ،  اسی عرصے کے دوران بجلی کی قیمت میں 59.40 فیصد، آٹے میں 58.72 فیصد اور ایل پی جی میں 52.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی سالانہ بنیادوں پر بالترتیب 44.73 فیصد اور 44.39 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مٹن، گائے کے گوشت اور لہسن کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

تاہم بعض اشیاء سالانہ بنیادوں پر سستی بھی ہوئیں ان میں آلو کی قیمت میں 41.09 فیصد، انڈوں میں 26.98 فیصد، چنے کی دال میں 22.32 فیصد اور چینی کی قیمت میں 17.51 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی کا دباؤ بدستور برقرار ہے اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے،  اگرچہ چند اشیاء کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم مجموعی طور پر مہنگائی کی بلند شرح عام شہری کے بجٹ پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔

editor

Related Articles