ایران کی تیل کی اہم تنصیبات پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں جس نے مشرقِ وسطیٰ کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق ایران میں آئل ریفائنریوں اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنانے کے معاملے پر واشنگٹن حکومت اسرائیل سے سخت ناراض ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کو ایران میں 30 ایندھن کے ڈپو پر اسرائیلی حملوں کی پیشگی توقع نہیں تھی اور نہ ہی اس کارروائی کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اس طرح کے حملے عالمی توانائی منڈی کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے سے عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ واشنگٹن کو خاص طور پر اس بات کی تشویش ہے کہ اگر تباہ شدہ تنصیبات کی تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر منظر عام پر آئیں تو عالمی منڈی میں خوف اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اسرائیلی قیادت کے ساتھ اس معاملے پر براہ راست بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ آئندہ ایسے اقدامات سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا یا خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑے تصادم کے نتیجے میں تیل کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی صورت میں عالمی توانائی منڈی فوری طور پر متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار اور خریدار اس صورتحال کو انتہائی تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
ادھر عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی اس خبر کے بعد بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کا اثر دنیا بھر میں مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور صنعتی پیداوار پر پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف سیکیورٹی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی سفارتی بات چیت اس بحران کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔