پاکستان خطے میں جنگ لڑ رہا ہے، دفاعی بجٹ بڑھانا ہوگا، خواجہ آصف کا مطالبہ

پاکستان خطے میں جنگ لڑ رہا ہے، دفاعی بجٹ بڑھانا ہوگا، خواجہ آصف کا مطالبہ

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں اور پاکستان بھی مختلف محاذوں پر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر پاکستان کو اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اور اسی کے لیے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث پاکستان کو اپنی دفاعی تیاریوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بھی اس جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امریکا ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر دفاع خواجہ آصف نے ’’آئی ایم ایف‘‘ سے چھٹکارے کی نوید سنادی

خواجہ آصف نے کہا کہ یورپ کے کئی ممالک اس جنگ میں امریکا اور اسرائیل کا کھل کر ساتھ دینے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک غیر مقبول جنگ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر بھی اس تنازع کے ممکنہ اثرات پر تشویش پائی جا رہی ہے۔

وزیر دفاع نے عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز دنیا کے لیے انتہائی اہم تجارتی راستہ ہے جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو دنیا بھر میں تیل کی قلت پیدا ہو سکتی ہے جس سے عالمی معیشت شدید متاثر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی رسد میں خلل سے نہ صرف تیل کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں مہنگائی اور معاشی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی لئے عالمی طاقتیں اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔

اس سے قبل ایک بیان میں وزیر دفاع نے بھارت کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ براہ راست جنگ آزما ہو کر دیکھ چکا ہے اور پاکستان نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو بھی میدان میں شکست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے جہاں سے پاکستان کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

خواجہ آصف نے افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشت گردوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

مزید پڑھیں:پاک افغان جنگ بندی معاہدہ طے پاگیا، شرائط پر اتفاق ہو گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف کا باضابطہ اعلان

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ افغانستان کی موجودہ حکومت اور وہاں کے بعض حلقوں کا رویہ پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کئی مرتبہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود سرحد پار سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان نے ماضی میں بھی دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی کی اور اگر انہیں بیرونی حمایت حاصل نہ ہوتی تو یہ گروہ بہت پہلے ختم ہو چکے ہوتے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال کو منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے اور جب تک دہشت گردی کا خطرہ ختم نہیں ہو جاتا سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *