اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ مدت کے لیے بنیادی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے دس اعشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ فیصلہ ادارے کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا جس میں ملکی معاشی صورتحال، مہنگائی کے رجحانات اور عالمی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
سٹیٹ بینک نے آئندہ تقریباً ڈیڑھ ماہ کے لیے معاشی سمت کا تعین کرتے ہوئے شرح سود برقرار رکھنے کو مناسب قرار دیا، اجلاس میں اس بات پر خاص توجہ دی گئی کہ عالمی سطح پر جاری کشیدگی اور توانائی کے شعبے میں پیدا ہونے والے بحران کے اثرات پاکستان کی معیشت پر کس حد تک پڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی جاری، شرح سود 11 فیصد پر برقرار
اجلاس میں مہنگائی کی صورتحال بھی مرکزی موضوع رہی۔ کمیٹی نے اس بات پر غور کیا کہ حالیہ مہینوں میں قیمتوں میں اضافے کے دباؤ نے معیشت کو کس طرح متاثر کیا ہے اور آنے والے مہینوں میں اس کے امکانات کیا ہو سکتے ہیں۔
موجودہ پالیسی کا مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا، مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنا اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے متوازن ماحول فراہم کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہےکہ اگر عالمی حالات یا ملکی معاشی اشاریے نمایاں طور پر تبدیل ہوئے تو آئندہ جائزے میں نئی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل ہونے والے گزشتہ جائزے میں بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود کو دس اعشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر برقرار رکھا تھا
The Monetary Policy Committee has decided to keep the policy rate unchanged at 10.5 percent in its meeting held on March 9, 2026.
— SBP (@StateBank_Pak) March 9, 2026

