پاکستان میں عید الفطر کے موقع پر بچوں کو عیدی دینے کی روایت نہایت پرانی اور خوشگوار سماجی روایت سمجھی جاتی ہے، اس موقع پر بڑے بزرگ بچوں کو نئے اور کڑک کرنسی نوٹ بطور عیدی دیتے ہیں، جس سے عید کی خوشیاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
اسی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شہریوں کے لیے نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار جاری کر دیا ہے تاکہ عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
مرکزی بینک کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ شہریوں کو عید کے موقع پر آسانی سے نئے نوٹ میسر آ سکیں اور کھلی منڈی میں نوٹوں کی غیر قانونی فروخت یا اضافی رقم وصول کرنے جیسے مسائل کی روک تھام کی جا سکے۔
ہر سال عید سے قبل نئے نوٹوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے باعث بعض عناصر اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اضافی رقم وصول کرتے ہیں۔
مرکزی بینک کی ہدایات کے مطابق شہری چند آسان مراحل کے ذریعے نئے نوٹ حاصل کر سکتے ہیں، سب سے پہلے اپنے موبائل فون سے تیرہ ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر تحریر کریں۔
اس کے بعد ایک خالی جگہ دے کر اپنی قریبی بینک شاخ کا کوڈ لکھیں اور یہ پیغام 8877 پر ارسال کر دیں۔ درخواست بھیجنے کے بعد شہری کو جوابی پیغام میں ایک مخصوص تصدیقی کوڈ اور متعلقہ بینک شاخ کا پتہ موصول ہو جائے گا۔
اس کے بعد درخواست دہندہ کو اصل شناختی کارڈ اور اس کی ایک نقل کے ساتھ متعلقہ بینک شاخ میں جانا ہوگا۔ وہاں عملہ تصدیق کے بعد شہری کو نئے اور کڑک کرنسی نوٹ فراہم کر دے گا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس سرکاری سہولت کے تحت کسی بھی شہری سے کوئی اضافی فیس یا رقم وصول نہیں کی جائے گی۔
تاہم سرکاری طریقہ کار کے باوجود بعض شہری جلدی یا سہولت کے باعث کھلی منڈی کا رخ کرتے ہیں، جہاں منافع خور افراد نئے نوٹوں پر اضافی رقم وصول کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر دس روپے کے نوٹوں کا ایک ہزار روپے مالیت کا بنڈل کھلی منڈی میں تقریباً بارہ سو سے تیرہ سو روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ پچاس روپے کے نوٹوں کا پانچ ہزار روپے مالیت کا بنڈل پانچ ہزار پانچ سو سے چھ ہزار روپے تک دستیاب ہے۔
پاکستان میں عید الفطر کے موقع پر بیس اور پچاس روپے کے نئے نوٹوں کی مانگ سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ بچے ان نوٹوں کو عیدی کے طور پر حاصل کر کے اپنی پسند کے کھلونے، مٹھائیاں اور دیگر اشیاء خریدتے ہیں، جس سے عید کی خوشیاں مزید دوبالا ہو جاتی ہیں۔