نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق اہم خبر آگئی

نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق اہم خبر آگئی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں کرنسی نوٹس کے نظام سے متعلق ایک اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کی چھپائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نےگزشتہ روز مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے کرنسی نوٹس کی تیاری کا عمل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور تمام تکنیکی امور تقریباً مکمل کیے جا چکے ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ کابینہ سے حتمی منظوری ملتے ہی دو سے تین مختلف مالیت کے نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس بیک وقت چھاپے جائیں گے، نئے نوٹس کی چھپائی کا عمل کافی حد تک آگے بڑھ چکا ہے، تاہم انہیں فوری طور پر مارکیٹ میں متعارف نہیں کرایا جائے گا۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر نے واضح کیا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس مرحلہ وار گردش میں لائے جائیں گے، مرکزی بینک اس وقت تک نئے نوٹس جاری نہیں کرے گا جب تک موجودہ کرنسی کو بتدریج تبدیل کرنے کے لیے مناسب مقدار میں نئے نوٹس کا ذخیرہ دستیاب نہ ہو جائے  تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سب سے پہلے کن مالیت کے نوٹس مارکیٹ میں لائے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت آسمان پر، عالمی مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم

واضح رہے کہ اس وقت پاکستان میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے کرنسی نوٹس زیر گردش ہیں،  گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کی تجاویز پہلے ہی حکومت کو منظوری کے لیے ارسال کی جا چکی ہیں، جنہیں بعد ازاں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا۔

اس سے قبل وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹس کے نئے ڈیزائن سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا تھا اور اس اہم معاملے کے لیے ایک خصوصی کابینہ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔

 کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کرنسی نوٹس کی ازسرِنو ڈیزائننگ جدید سیکیورٹی تقاضوں اور بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے، عالمی ماہرین کی معاونت سے کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق نئے ڈیزائن کے نوٹس نہ صرف جعل سازی کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ کرنسی کے مجموعی معیار کو بھی بہتر بنائیں گے، تاہم عوام کو نئے نوٹس کے لیے کچھ وقت انتظار کرنا پڑے گا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *