سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی اور بیٹی کے قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم محمد امین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ زندہ بچ جانے والے واحد والدین کو پھانسی دینا دراصل عدلیہ کی سرپرستی میں بچوں کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا۔
یہ تحریری فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے جاری کیا جس میں عدالت نے تفصیل سے قانونی اور انسانی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست کو کسی بچے کی مکمل بے بسی اور خاندان کی تباہی کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عدالت کے مطابق ایسے مقدمات میں جہاں کسی بچے کا واحد سہارا ملزم ہو، وہاں فیصلہ کرتے وقت بچوں کے مستقبل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جب وارث مقتول کا براہ راست وارث خود ہو تو تعزیرات کے قانون کی دفعہ 306 کے تحت قصاص نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق اس مقدمے میں ملزم اپنی 15 سالہ زندہ بچ جانے والی بیٹی کا واحد سہارا ہے۔
عدالت نے تاہم واضح کیا کہ جرم انتہائی سنگین اور سفاکانہ نوعیت کا ہے، اس لیے ملزم کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے اسی بنیاد پر دفعہ 382Bکے تحت سزا میں رعایت دینے سے انکار کر دیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ واقعہ اپریل 2021 میں وہاڑی میں پیش آیا تھا جہاں ملزم محمد امین نے گھریلو تنازع کے بعد اپنی اہلیہ اور ایک بیٹی کو خنجر کے وار کر کے قتل کر دیا تھا جبکہ دوسری بیٹی کو شدید زخمی کر دیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق واقعے سے ایک روز قبل ملزم کا اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ زرعی زمین فروخت کرنے کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا۔ جھگڑے کے دوران ملزم نے طیش میں آکر اپنی بیوی پر 21 جبکہ بیٹی پر 8 خنجر کے وار کیے جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر جاں بحق ہو گئیں جبکہ دوسری بیٹی زخمی حالت میں بچ گئی۔
ابتدائی سماعت کے دوران ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت کا حکم برقرار رکھا تھا۔
تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپیل کی سماعت کے بعد سزا کا ازسرنو جائزہ لیا اور انسانی و قانونی بنیادوں پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔واضح رہے کہ یہ فیصلہ آئندہ ایسے مقدمات میں اہم نظیر بن سکتا ہے جہاں کسی بچے کا واحد سہارا خود ملزم ہو۔