سپریم کورٹ کا کسی بھی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ کا کسی بھی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 3 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں بلکہ عام زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلہ میں استفسار کیا کہ ‘کیا کل عدالتیں رقم کی واپسی کے لیے بجلی اور پانی کے کنکشن بھی کاٹنے کا حکم دیں گی؟’ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا زندگی کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور پشاور ہائیکورٹ کی سی پی سی میں کی گئی ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:4 اکتوبر احتجاج کیس: عمر ایوب اشتہاری قرار، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ قانون میں واضح حکم کے بغیر کوئی بھی عدالت کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کر سکتی۔ عدالت کے مطابق یہ اقدام نہ صرف شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانونی حدود کی بھی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ کیس 2016 سے زیرِ سماعت ہے، جب ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی تھی۔ رقم کی عدم ادائیگی پر ٹرائل کورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، جسے بعد میں سندھ ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ سپریم کورٹ نے اب اس حکم کو غیر قانونی قرار دے کر شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ملک میں شہری حقوق کے تحفظ اور عدالتی حدود کی واضح تشریح کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *