وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے تاہم اس آزادی پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں بھی ہیں اور اسلام ، سلامتی اور قومی سیکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری ہے ، پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے مناسب نہیں اور اگر کوئی ریڈ لائن کراس کرے گا تو کارروائی کی جائے گی۔
اسلام آباد میں وفاقی وزرا عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک ہے اور پاکستان نے موجودہ صورتحال میں سفارتی حل کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پارلیمان کو بھی اس جنگ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، پاکستان ایک ذمہ دار نیوکلیئر ریاست ہے اور دفاعی و خارجہ پالیسی پر اس کا واضح مؤقف ہے.
وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے باعث پوری دنیا گہری تشویش میں مبتلا ہے ، ہم تبصرے کرتے ہوئے غیرضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں ،آئین میں غیرذمہ دارانہ تبصروں کی اجازت نہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، ہر شہری کو دل کی بات کرنے کا حق ہے لیکن آئین کو بھی دیکھنا ہے ، اس آزادی پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں بھی ہیں اور اسلام، سلامتی اور قومی سیکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری ہے۔.
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے مناسب نہیں اور اگر کوئی ریڈ لائن کراس کرے گا تو کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس تنازع میں بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور وزیراعظم مختلف ممالک سے رابطوں میں ہیں جبکہ پاکستان نے سلامتی کونسل میں بھی فعال کردار ادا کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصرے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں : عطا تارڑ
اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں جبکہ خارجہ پالیسی سے متعلق سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصرے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔
ان کاکہنا تھا کہ ویوز کی بھیڑ چال چلی ہے ، ویوز کے لیے دو ممالک کے تعلقات پر منفی وی لاگز بنانا اور سنسنی پھیلانا ملک کی خدمت نہیں اور ایسے رویے پاکستان کے عالمی مقام کو متاثر کر سکتے ہیں ، میرا حلف اور آئین مجھے دفتر خارجہ کے مؤقف کے مطابق بات کرنے کا پابند بناتا ہے جبکہ ذاتی پسند، ناپسند یا سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر تبصرہ مناسب نہیں۔
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں ہماری میڈیا پر کی گئی بات کو ریاستی پالیسی سمجھا جاتا ہے، اس لیے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر تبصرے میں احتیاط ضروری ہے، تاہم مقامی سیاست پر تنقید کی گنجائش موجود ہے لیکن خارجہ پالیسی کو مقامی سیاست کی نذر نہ کریں ۔