حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں جاری کفایت شعاری مہم کے تحت شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے نئے ضوابط نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس فیصلے کا مقصد غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا، توانائی کی بچت کو فروغ دینا اور تقریبات میں سادگی کو رواج دینا بتایا گیا ہے، سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اب شادیوں اور دیگر تقریبات میں کھانے کے حوالے سے صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ مہمانوں کی تعداد پر بھی واضح حد مقرر کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شادی یا تقریب میں دو سو سے زائد مہمانوں کو مدعو کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فضول خرچی میں کمی آئے گی اور متوسط طبقے پر تقریبات کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا دباؤ بھی کم ہوگا۔
نجی ٹی وی کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق شادی ہالز، فارم ہاؤسز اور ہوٹلوں میں ہونے والی تقریبات میں صرف ایک کھانے کی ڈش پیش کی جا سکے گی۔ اگر نکسی تقریب میں اس پابندی کی خلاف ورزی کی گئی تو ہال مالکان اور تقریب کے منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس میں جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ ہال کو سیل کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت نے تقریبات کے اوقات کار کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام تقریبات کو مقررہ وقت پر ختم کرنا لازمی ہوگا تاکہ بجلی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے اور توانائی کی بچت کے حکومتی اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شادی ہالز، فارم ہاؤسز اور ہوٹلوں کی اچانک جانچ پڑتال کریں۔ اگر کسی جگہ قوانین کی خلاف ورزی سامنے آئے تو فوری کارروائی کی جائے۔ حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد معاشرے میں سادگی کو فروغ دینا اور قومی وسائل کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنا ہے۔