پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کھلاڑیوں کی عالمی مقابلوں میں مسلسل مایوس کن کارکردگی پر سخت موقف اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران بھارت کے خلاف عبرت ناک شکست پر کھلاڑیوں پر عائد کیے جانے والے جرمانوں اور مستقبل کی مراعات کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق 15 فروری کو روایتی حریف بھارت کے خلاف 61 رنز کی شکست نے بورڈ حکام کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور کیا۔ ناقص پرفارمنس پر اس میچ کا حصہ رہنے والے ہر کھلاڑی پر 50 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
اگرچہ اس جرمانے کی تجویز دی جا چکی ہے، تاہم تاحال اس پر باقاعدہ عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ اب کھلاڑیوں کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ہی نوازا جائے گا۔
بورڈ نے پاکستان سپر لیگ (PSL) کی تاریخ میں پہلی بار آکشن (بولی) کا نظام متعارف کروایا، جس کے ذریعے کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے میں خریدا گیا۔ اس کے علاوہ سینٹرل کنٹریکٹ کی مد میں بھی کھلاڑیوں کو سالانہ کروڑوں روپے دیے جا رہے ہیں۔
اتنی بھاری مراعات کے باوجود عالمی سطح پر تنزلی کا شکار کارکردگی پر چیئرمین پی سی بی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ مستقبل میں “پرفارمنس بیسڈ” مراعات دی جائیں گی، یعنی جیت کی صورت میں انعامات اور ہار کی صورت میں پیسوں میں کٹوتی کی جائے گی۔
اچھے معاوضے اور سینٹرل کنٹریکٹ کی مراعات کا مقصد عمدہ کارکردگی کا حصول ہے، لہٰذا نتائج نہ ملنے کی صورت میں کھلاڑیوں کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ مستقبل میں کسی بھی بڑے ایونٹ میں خراب کھیل پیش کرنے پر کھلاڑیوں کی فیس اور مراعات میں کٹوتی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پی سی بی اب کھلاڑیوں کو صرف مراعات دینے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ “جزا و سزا” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ٹیم میں ڈسپلن اور بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پڑھیں: پی سی بی نے پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کا شیڈول جاری کر دیا

