آبنائے ہرمز اور عراقی سمندری حدود میں جہازوں پر حملوں کے بعد ایشیائی شیئر مارکیٹس میں مندی کا رجحان برقرار ہے اور تیل کی قیمتیں 7 فیصد بڑھ گئیں۔
امریکی خام تیل 93.80 ڈالر اور برینٹ خام تیل 99.03 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق عالمی توانائی ایجنسی کے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کے اعلان کے باوجود قیمتیں بڑھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سرمایہ کار، جو پہلے ہی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر اخراجات کے حوالے سے پریشان تھے، نے مارکیٹ سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا کیونکہ خام تیل کی قیمتیں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اصرار کہ صرف ایران کی ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ سے ہی جنگ ختم ہو سکتی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں میں مزید خدشات پیدا ہوئے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
یہ صورت حال آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت کے بند ہونے کے بعد سامنے آئی ہے جہاں سے دنیا کے خام تیل اور گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اس سے قبل گزشتہ سیشن میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی، اس دوران لندن برینٹ کی قیمت 14 ڈالر 30 سینٹس کمی کے بعد 84 ڈالر 66 سینٹس فی بیرل تک آ گئی تھی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 80 ڈالر 66 سینٹس فی بیرل ریکارڈ کی گئی تھی۔