وفاقی حکومت نے ایندھن کے استعمال میں کمی اور کفایت شعاری پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے مزید اقدامات نافذ کرتے ہوئے آئندہ دو ماہ تک تمام سرکاری غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس میں مختلف سرکاری اداروں اور حکام کے لیے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں دو ماہ کیلئے کٹوتی
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری کارپوریشنز، خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز اور سرکاری ملکیتی اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے کٹوتی کی جائے گی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس کٹوتی سے حاصل ہونے والی تمام رقم وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ اقدامات وزیر اعظم کی منظوری سے کیے گئے ہیں یہ فیصلہ کابینہ ڈویژن کی جانب سے 9 اور 10 مارچ 2026 کو جاری کی گئی ہدایات کے تسلسل میں مانیٹرنگ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
کتنی تنخواہ پر کتنی کٹوتی ہوگی؟
نوٹیفکیشن کے مطابق تنخواہوں میں کٹوتی مختلف تنخواہی درجات کے مطابق کی جائے گی۔ تین لاکھ سے دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افسران کی تنخواہ سے پانچ فیصد کٹوتی ہوگی۔ دس لاکھ سے بیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والوں کی تنخواہ سے پندرہ فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ بیس لاکھ سے تیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں کی تنخواہ سے پچیس فیصد کمی کی جائے گی جبکہ تیس لاکھ روپے سے زیادہ تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ میں تیس فیصد کٹوتی دو ماہ تک جاری رہے گی۔
بورڈ اجلاسوں کی فیس بھی فنڈ میں جمع ہوگی
حکومت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ سرکاری نامزد افراد کو سرکاری اور نجی کمپنیوں کے بورڈ اجلاسوں میں شرکت کے عوض ملنے والی سو فیصد فیس بھی آئندہ دو ماہ کے دوران وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔
بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں کیلئے نئی ہدایات
وزارت خارجہ کو جاری کردہ ہدایات کے مطابق 23 مارچ 2026 کے موقع پر بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں بڑی تقریبات کے بجائے صرف سادہ پرچم کشائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ بیرون ملک پاکستانی مشنز کے بجٹ میں چوتھی سہ ماہی کے لیے بیس فیصد کمی کی جائے گی اور وہاں تعینات افسران کی دو روزہ تنخواہ بھی کاٹی جائے گی نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کرایوں، تعلیمی اخراجات اور طبی سہولیات سے متعلق ادائیگیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
ایف بی آر اور ریونیو ڈویژن کو استثنیٰ
حکومت نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ریونیو ڈویژن کو گھر سے کام کرنے اور چار روزہ دفتری ہفتے کی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ محصولات کی وصولی کے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
اسی طرح کسٹمز انفورسمنٹ اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کی آپریشنل گاڑیوں پر ایندھن میں کمی اور گاڑیوں کو بند رکھنے کی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی، تاہم مجموعی طور پر ایندھن کی بچت کے اہداف پورے کیے جائیں گے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی استثنیٰ
حکومت نے سکیورٹی ضروریات کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول آرمڈ فورسز کو بھی گھر سے کام کرنے اور چار روزہ ورک ویک کی پابندیوں سے استثنیٰ دیا ہے۔ تاہم ان اداروں کے وہ شعبے جو براہ راست فیلڈ آپریشنز میں شامل نہیں ہیں ان پر ایندھن میں پچاس فیصد کمی اور ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیوں کو بند رکھنے کی پابندی لاگو ہوگی۔
غیر ملکی تربیتی پروگراموں کیلئے رعایت
حکومت نے آئندہ دو ماہ کیلئے تمام سرکاری غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ تاہم ایسے تربیتی پروگرام جن کے اخراجات مکمل طور پر بین الاقوامی ادارے برداشت کرتے ہوں اور جن کے لیے باقاعدہ انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہو، انہیں اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
سرکاری گاڑیوں اور اجلاسوں سے متعلق ہدایات
حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو صرف سرکاری کاموں تک محدود رکھنے کی ہدایت دی ہے جبکہ حساس شخصیات کے سکیورٹی قافلوں کو بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اجلاسوں کے انعقاد کے لیے زیادہ سے زیادہ ویڈیو لنک اور ٹیلی کانفرنسنگ استعمال کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
نگرانی اور رپورٹنگ کا نظام
حکومت نے ان اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی کیلئے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر ہفتے اپنی رپورٹ ایک ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے جمع کرائیں۔ اس کے ساتھ انٹیلی جنس بیورو کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ایندھن میں کمی اور سرکاری گاڑیوں کی بندش سے متعلق اقدامات کا آڈٹ کرے اور اس حوالے سے وزیر اعظم کو ہفتہ وار رپورٹ پیش کرے۔
مالی بچت کی منتقلی کیلئے ذیلی کمیٹی قائم
کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی مالی بچت کو وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے مالیاتی سیکریٹریز پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔