ملک میں موبائل صارفین کے لیے جدید تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عید الفطر سے قبل فائیو جی سروس کا آغاز ہو سکتا ہے۔
نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کو آئندہ ہفتے فائیو جی کے اجازت نامے جاری کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد صارفین جدید ٹیکنالوجی کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد وفاقی ادارہ برائے ٹیلی مواصلات نے اجازت نامے جاری کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔
حکام کے مطابق فائیو جی کے اجازت نامے پہلے ہی تیار کر لیے گئے ہیں اور تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متعلقہ کمپنیوں کو فراہم کیے جائیں گے۔
اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے کمپنیوں کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے ہوں گے، اس سلسلے میں کمپنیوں کو اجازت نامہ حاصل کرنے سے پہلے پندرہ ملین ڈالر کی بینک ضمانت جمع کروانی ہوگی،ذرائع کے مطابق ایک کمپنی پہلے ہی یہ ضمانت جمع کرا چکی ہے جبکہ دو دیگر کمپنیوں کی جانب سے جلد یہ رقم جمع کروانے کی توقع ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ تینوں بڑی ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کو بیک وقت اجازت نامے دینے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر میں فائیو جی سروس کا آغاز ایک ہی وقت میں ممکن بنایا جا سکے، ذرائع کے مطابق تمام کمپنیاں فائیو جی سروس کے فوری آغاز کے لیے اپنی تیاری مکمل کر چکی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ چاہتا ہے کہ عید الفطر سے قبل فائیو جی سروس کی راہ ہموار کی جائے تاکہ عوام کو جدید سہولت میسر آ سکے۔ اسی مقصد کے تحت اجازت نامے کے اجرا کے لیے ادارے کے صدر دفتر میں ایک خصوصی تقریب کے انعقاد پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
فائیو جی سروس کے آغاز سے موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے آن لائن خدمات، کاروباری سرگرمیوں اور جدید ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ میں مدد ملنے کی توقع ہے،تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سروس کے باضابطہ آغاز کا حتمی اعلان اجازت نامے جاری ہونے کے بعد کیا جائے گا۔